ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد، چاہ بہار بندرگاہ پر کئی تجارتی جہاز پھنس گئے

امریکی حکومت نے ایران کے خلاف معاشی شکنجہ مزید کستے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی...
شائع 29 اپريل 2026 08:40am

امریکی حکومت نے ایران کے خلاف معاشی شکنجہ مزید کستے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں اور شخصیات پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بینکنگ کے شعبے کی مدد کر رہے ہیں اور انہوں نے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے ’او ایف اے سی‘ نے ایک سخت وارننگ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام بینک بھی ان پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بدلے ادائیگیاں کرتی ہیں۔

امریکی حکام نے اس موقع پر چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم آئل ریفائنریز کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کئی آزاد چینی کمپنیاں ایرانی تیل درآمد کرنے یا اسے صاف کرنے کے عمل میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار میں اس وقت بیس سے زائد تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ناکہ بندی سے قبل چاہ بہار بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً پانچ جہاز لنگر انداز ہوتے تھے، لیکن اب امریکی فورسز کی سخت نگرانی کی وجہ سے بحری تجارت معطل ہو کر رہ گئی ہے اور جہازوں کی بڑی تعداد بندرگاہ پر ہی رکی ہوئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

اسی دوران بحیرہ عرب میں بھی امریکی بحریہ کی جانب سے سخت نگرانی کا عمل جاری ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی میرینز نے سمندر میں ایک مشکوک تجارتی جہاز ’ایم وی بلیو اسٹار تھری‘ کو روک کر اس کی تلاشی لی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق انہیں شبہ تھا کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی جانب جانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم مکمل تلاشی لینے اور اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ جہاز کا رخ کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف نہیں ہے، اسے سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

Read Comments