گزر بسر مشکل: ملینیئلز اور جین زی کے لیے ایک نوکری ناکافی کیوں ہے؟

نوجوان نسل دو ملازمتیں کرنے پر کیوں مجبور ہے؟
شائع 29 اپريل 2026 11:30am

آج کل کے مہنگائی کے دور میں محض ایک ملازمت سے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ملینیئلز اور جین زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اب ایک سے زیادہ جگہوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اس کی ایک واضح مثال لاس اینجلس کے رہائشی 33 سالہ جیسس کاڈینا کی ہے جو دن کے آغاز میں کیک ڈیکوریشن کا کام کرتے ہیں اور رات ہوتے ہی ایک ریسٹورنٹ میں بطور سرور اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔

کاڈینا ہفتے میں چھ دن تقریباً 54 گھنٹے کام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں، کیونکہ صرف ایک کام سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے کافی نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کاڈینا ہمیشہ سے دو جگہ کام نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنے خوابوں کی نوکری یعنی بیکری کے شعبے میں بطور ہیڈ بیکر ماہانہ 6000 ڈالر کما رہے تھے، لیکن طویل دورانیے کی مشقت اور کرونا وبا کے اثرات نے انہیں اپنی بچت استعمال کرنے اور متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔

اب وہ دوبارہ کیک سجانے کے شعبے میں واپس تو آ گئے ہیں مگر ان کی آمدنی پہلے کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے یونی 3000 ڈالر، جس کی وجہ سے انہیں دوسری ملازمت کا سہارا لینا پڑا۔

یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان کی عکاسی ہے۔ 2025 میں امریکہ میں ایک سے زیادہ نوکریاں کرنے والوں کی تعداد دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس میں 55 فیصد حصہ نوجوان نسل یعنی جین زی کا تھا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غیر یقینی معاشی حالات کی وجہ سے اب ایک ہی ملازمت سے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین اس صورتِ حال میں نوجوانوں کو چند اہم مشورے بھی دیتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں کسی بڑی مشکل سے بچ سکیں۔ جیفری جج جیسے فنانشل پلینر خبردار کرتے ہیں کہ جب ایک شخص دو مختلف جگہوں پر کام کرتا ہے، تو ٹیکس کی کٹوتی کا نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

اکثر اوقات آجر یہ سمجھ کر ٹیکس کاٹتے ہیں کہ ملازم کی صرف یہی ایک آمدنی ہے، جس کی وجہ سے سال کے آخر میں ملازم پر ٹیکس کا بڑا بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملازمین اپنے ٹیکسوں کے حساب کتاب کو پہلے سے درست رکھیں تاکہ اپریل کے مہینے میں انہیں کسی اچانک مالی جھٹکے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ٹیکس کے معاملات کے ساتھ ساتھ ماہرین ایک ایمرجنسی فنڈ بنانے پر بھی زور دیتے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ ہر فرد کے پاس کم از کم تین سے چھ ماہ کے اخراجات کے برابر رقم محفوظ ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال یا ملازمت چھوٹ جانے کی صورت میں انہیں اپنی ریٹائرمنٹ کی بچت یا جمع پونجی کو ہاتھ نہ لگانا پڑے۔

مجموعی طور پر، آج کی نوجوان نسل کے لیے ایک نوکری پر گزارا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور بہت سے لوگ صرف زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک سے زیادہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

Read Comments