امریکا میں 'یومِ مزدور' یکم مئی کے بجائے ستمبر میں کیوں منایا جاتا ہے؟
دنیا کے بیشتر ممالک کے برعکس امریکا میں یومِ مزدور یکم مئی کے بجائے ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ محض تاریخ کا انتخاب نہیں بلکہ اس کے پیچھے مزدور تحریکوں، سیاسی حالات اور حکومتی فیصلوں کی ایک پوری کہانی موجود ہے۔
انیسویں صدی کے آخر میں امریکا صنعتی ترقی کے عروج پر تھا، جہاں مزدوروں کو سخت حالات کا سامنا تھا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد سے طویل اوقات کار لیا جاتا تھا، جو اکثر 10 سے 16 گھنٹوں تک ہوتے تھے، جبکہ اجرت کم اور کام کے حالات غیر محفوظ تھے۔
ان حالات کے خلاف مزدوروں نے منظم ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، اور آٹھ گھنٹے کام کے مطالبے نے ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔
اسی جدوجہد کے دوران 1886 میں شکاگو میں ایک بڑا احتجاج ہوا، جو بعد میں ’ہیمارکیٹ‘ کے نام سے جانا گیا۔ اس مظاہرے کے دوران ایک بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور بعد ازاں یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منانے کی بنیاد پڑی۔
تاہم امریکا نے اس عالمی روایت کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت یکم مئی کو ابھرتی ہوئی بائیں بازو اور انقلابی تحریکوں سے جوڑا جانے لگا تھا، جس سے امریکی حکومت خود کو دور رکھنا چاہتی تھی۔ اسی لیے ایک متبادل تاریخ کو ترجیح دی گئی جو نسبتاً غیر متنازع ہو۔
بالآخر 1894 میں ’پل مین ہڑتال‘ کے بعد، جب مزدوروں کی ایک بڑی ہڑتال نے ملک بھر میں نظام کو متاثر کیا، امریکی حکومت نے مزدوروں کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے باضابطہ طور پر قومی تعطیل قرار دے دیا اور ستمبر کے پہلے پیر کو یومِ مزدور منایا جانے لگا۔
لہٰذا ستمبر کا پہلا پیر، امریکا میں لیبر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے جو نہ صرف مزدوروں کی خدمات کے اعتراف کا دن ہے بلکہ اسے موسمِ گرما کے اختتام کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک یکم مئی کو یومِ مزدور مناتے ہیں لیکن امریکا کا مختلف تاریخ کا انتخاب اس کی اپنی تاریخی اور سیاسی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔