ایران جنگ میں امریکا کو 100 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے: عباس عراقچی

جنگ کے نتیجے میں ہر امریکی گھرانے پر ماہانہ 500 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
شائع 01 مئ 2026 05:37pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ پر ہونے والے اصل اخراجات کو چھپانے کی کوشش رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا ہے، جو سرکاری دعوؤں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ جنگ (پینٹاگون) ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے اصل مالی اخراجات کو چھپا رہا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے فیصلوں کے باعث امریکا کو اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جو امریکی حکام کی جانب سے ظاہر کردہ اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے بالواسطہ اخراجات امریکی عوام پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں اور

عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کو ترجیح دینے کا مطلب ہمیشہ امریکا کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔‘

اس بیان کا پسِ منظر پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے سامنے والے وہ بیان ہے جس میں انہوں ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو ایران جنگ پر ہونے والے امریکی اخراجات سے آگاہ کیا تھا۔

قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور اس رقم کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی پر خرچ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس میں مشرق وسطیٰ میں تباہ ہونے والے امریکی فوجی اڈوں کی مرمت اور بحالی کے اخراجات بھی شامل ہیں یا نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ 40 روز تک جاری رہی جس کے بعد پاکستان کی کوششوں سے فریقین جنگ بندی پر رضامند ہوئے۔ جس کے بعد پاکستان اب دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، جب کہ اسرائیل نے بھی دوبارہ حملوں کی تیاریوں میں تیزی کر دی ہے۔

Read Comments