وزیرِاعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دے دی
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی، اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی۔
وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں۔
امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا، طلال چوہدری
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں قوانین کی خلاف ورزی ہوئی، حکومت تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور ریاست ناجائز قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین کی خلاف ورزی کی جب کہ 3 کمپنیوں نے اس جگہ کو ہوٹل بنانے کے لیے لیز حاصل کی تھی، امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ قانون کے مطابق ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ 2005 میں پلاٹ کی نیلامی ہوئی جس کی بنیاد پر بینک سے قرض لیا گیا، تاہم اقساط کی عدم ادائیگی پر متعلقہ گروپ دیوالیہ ہو گیا، معاملہ بعد ازاں نیب میں گیا جہاں کمرشل جائیدادیں دینے کا وعدہ کیا گیا، حالانکہ اس کا قانونی استحقاق موجود نہیں تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً 250 رہائشی اپارٹمنٹس لیز ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے جب کہ کمپنی کے مالکان پر عوام سے فراڈ اور اداروں کو دھوکہ دینے کے الزامات بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے واضح کیا تھا کہ اس جگہ کو ہوٹل کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، 2014 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نوٹس لیا اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیس ای آئی اے کو بھیج دیا، بعد ازاں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی۔
طلال چوہدری کے مطابق 2016 میں سی ڈی اے نے اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر لیز ایگریمنٹ منسوخ کر دیا، جبکہ 2017 میں اطہر من اللہ کی عدالت نے بھی سی ڈی اے کے مؤقف کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ون شاہراہ دستور کا قبضہ پہلے ہی سی ڈی اے کے پاس ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے شاہراہ دستور پر موجود ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کروڑوں روپے مالیت کے رہائشی اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جن کے مالکان میں پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے نام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ون کانسٹیٹیوشن بلڈنگ سے متعلق گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بلڈنگ کی لیز منسوخی کے سی ڈی اے کے فیصلے کوبرقرار رکھا تھا۔ عدالت نے لیز منسوخی کے خلاف نجی کمپنی کی درخواست مسترد کردی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے نے اس سال فروری میں شاہراہِ دستور کے قریب واقع اس عمارت کی لیز کی منسوخی سے متعلق مقدمے میں اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 30 اپریل کو سنایا گیا۔
یہ مقدمہ عمارت بنانے والی کمپنی بسم اللہ، نیاگرا، پیراگون گروپ (بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ) اور فلیٹس کے مالکان کی جانب سے دائر اپیلوں پر مبنی تھا۔
گزشتہ رات سی ڈی اے انتظامیہ پولیس کے ہمراہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ لینے پہنچی اور بلڈنگ خالی کرنے کے لیے ہفتے کی رات 12 بجے تک کی ڈیڈلائن دی تھی۔
معاملہ کیا ہے؟
اس منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک ورسٹائل ڈیولپمنٹ ہے جس میں اپارٹمنٹس، شاپنگ مال اور دفاتر کے علاوہ ایک فائیو سٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہے۔ تاہم سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس مقام پر صرف ایک ہوٹل کی تعمیر کے لیے سنہ 05-2004 میں بی این پی گروپ کو 99 سال کی لیز پر جگہ دی گئی تھی تاہم اس گروپ نے وہاں سات برس کے عرصے میں جو ٹاور تعمیر کیے انھیں ہوٹل کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے رہائشی فلیٹس اور تجارتی سرگرمیوں کے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا۔
سی ڈی اے اے نے ضوابطِ کار کی خلاف ورزی پر یہ لیز سنہ 2016 میں منسوخ کر دی تھی اور یہ معاملہ ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیا تھا تو عدالت نے اپنے فیصلے میں گرینڈ حیات ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر غیر قانونی قرار دے کر لیز کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
تاہم جنوری 2019 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس فیصلے کے خلاف بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ جب عمارت بن رہی تھی تو اس وقت سی ڈی اے نے اعتراض نہیں کیا اور اب گرینڈ حیات کے دو ٹاور بن گئے ہیں اور لوگوں نے اپارٹمنٹس خرید لیے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا تھا کہ عمارت کے تیسرے ٹاور کی تعمیر کون کرے گا؟
جسٹس ثاقب نثار نے یہ بھی کہا تھا کہ ’سی ڈی اے کو 15 ارب روپے لے کر دے رہے ہیں۔۔۔مشکل تو ان لوگوں کو ہو گی جنھوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔‘ خیال رہے کہ اس وقت عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ بی این پی گروپ آٹھ برس کے دوران سی ڈی اے کو مزید ساڑھے 17 ارب روپے ادا کرے گا۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی اس رقم کی ادائیگی میں ناکام رہی اور عدالت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی تعمیل اور اپنی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں کر سکی۔ سی ڈی اے کے مطابق عدالت کی جانب سے طے کردہ ساڑھے 17 ارب روپے میں سے صرف دو ارب 90 کروڑ روپے ہی ادا کیے گئے اور اسی بنیاد پر 2023 میں لیز کی دوبارہ منسوخی کا نوٹس دیا گیا اور نتیجتاً لیز منسوخ کر دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے کے لیز کی دوبارہ منسوخی کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سی ڈی اے نے بی این پی کے 25 جولائی 2022 کے اس خط کا بھی حوالہ دیا، جس میں کمپنی نے منفی معاشی حالات کی وجہ سے اس منصوبے کو جاری رکھنے یا دو ارب 92 کروڑ روپے سالانہ کی قسط کی ادائیگی میں ناکامی کا اعتراف کیا۔
سماعت کے دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے بعد بی این پی کمپنی کے سی ای او اور سی ڈی اے کے سابق اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے تاہم بعد ازاں یہ معاملہ نیب کے سپرد کر دیا گیا، جہاں ابھی اس پر کارروائی کا انتظار ہے جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے کا جائزہ لیا تھا۔