ایران کے بااثر خاندان کا خفیہ نیٹ ورک پاسدارانِ انقلاب کے لیے کروڑوں ڈالر کی منتقلی کا ذریعہ کیسے بنا؟

ایران کے بااثر خاندان اور سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج ’نوبی ٹیکس‘ کے خفیہ روابط کا انکشاف: ایک تفصیلی رپورٹ
شائع 02 مئ 2026 09:44am

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ایک انتہائی طاقتور فیملی سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ملک کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ’نوبی ٹیکس‘ قائم کیا ہے، جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب لاکھوں ڈالر کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

رائٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اس کرپٹو ایکسچینج کو ایک اسٹارٹ اَپ سے سرمائے کی ترسیل کے راستے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جسے بلیک لسٹ شدہ ریاستی ادارے اور عام شہری دونوں استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس ایکسچینج کو خرازی خاندان کے دو بھائیوں نے قائم کیا تھا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ نوبی ٹیکس نے پابندیوں کے شکار گروپوں، بشمول ایران کے مرکزی بینک اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے لیے کروڑوں ڈالرز کا لین دین کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خرازی خاندان ایران کے بااثر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے اور کمپنی کے ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ جب یہ ایکسچینج شروع ہوا تو ان دو بھائیوں کے اپنے ناموں کے ساتھ ایسا خاندانی نام درج تھا جو عام طور پر یہ خاندان استعمال نہیں کرتا۔

رائٹرز کے مطابق، نوبی ٹیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے 1 کروڑ 10 لاکھ صارفین ہیں، جو ایران کی کل آبادی کا 10 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔ بین الاقوامی بینکنگ تک رسائی نہ ہونے اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور مہنگائی کی وجہ سے عام ایرانی اس ایکسچینج کو کرپٹو خریدنے اور محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایران پر سخت پابندیاں ہیں، وہیں نوبی ٹیکس اب تک امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی پابندی سے بچا ہوا ہے اور خرازی خاندان کے کسی فرد پر بھی تاحال پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

رائٹرز کے دعویٰ کیا کہ نوبی ٹیکس کے بانی بھائیوں کے اشرافیہ سے تعلقات کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاسدارانِ انقلاب نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی معیشت اور سیکیورٹی پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔

یہ بھائی خرازی خاندان کی اس تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو ایران کے حکمران طبقے کا حصہ رہے ہیں۔ اس خاندان کے ایران کے تینوں سپریم لیڈرز: آیت اللہ خمینی، مرحوم علی خامنہ ای اور موجودہ لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ خاندانی تعلقات ہیں۔

علی اور محمد خرازی نے ’آغا میر‘ کا خاندانی نام استعمال کرتے ہوئے نوبی ٹیکس کو ایران کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج بنایا، جو ملک کے 70 فیصد کرپٹو لین دین کو کنٹرول کرتا ہے۔

تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ نوبی ٹیکس عالمی کرپٹو مارکیٹ تک ایک پل کا کام کرتا ہے اور ایک متوازی مالیاتی نظام کے طور پر استعمال ہوتا ہے تاکہ فنڈز کو مغربی پابندیوں کی پہنچ سے دور رکھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق نوبی ٹیکس کے ساتھ کام کرنے والے سابق ملازمین نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پابندیوں کے شکار ریاستی فنڈز کو اس ایکسچینج کے ذریعے گزرتے دیکھا ہے۔

تاہم، نوبی ٹیکس نے حکومت کے ساتھ کسی بھی براہ راست تعلق کی تردید کی ہے۔ کمپنی نے رائٹرز کو ایک ای میل کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا کہ ”نوبی ٹیکس ایک نجی اور آزاد کاروبار ہے۔ یہ کبھی بھی حکومت کا بازو نہیں رہا اور نہ ہی اس کا ایران کے مرکزی بینک، پاسدارانِ انقلاب یا کسی اور سرکاری ادارے کے ساتھ کوئی معاہدہ یا تعلق رہا ہے۔“

کمپنی نے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی فنڈز ایکسچینج سے گزرے بھی ہیں تو وہ انتظامہ کی منظوری یا علم کے بغیر ہوا ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے ان انکشافات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ دشمن ممالک امریکی عالمی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، نوبی ٹیکس کے بانی بھائیوں علی اور محمد نے تہران کی ایلیٹ شریف یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ علی کی پیدائش 1986 اور محمد کی 1992 میں ہوئی تھی۔ کمپنی کے اندر بھی بھائیوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے اپنا ’خرازی‘ نام چھپائے رکھا۔

ایک سابق ساتھی، جو محمد کا قریبی دوست تھا، اس انکشاف پر حیران رہ گیا کہ اس کے دوست کا تعلق اتنے بااثر خاندان سے ہے۔ علی اور محمد کے دادا ایک مذہبی عالم تھے جنہوں نے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو پڑھایا تھا، جبکہ ان کے والد آیت اللہ باقر خرازی ایران میں ’حزب اللہ‘ نامی تنظیم کے بانی تھے (جو لبنان کی تنظیم سے الگ ہے)۔

رپورٹ کے مطابق نوبی ٹیکس نے ماضی میں دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج ’بائننس‘ کے ساتھ بھی 7.8 ارب ڈالر کا لین دین کیا تھا، جس میں امریکی پابندیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پابندیوں سے بچنے کے لیے نوبی ٹیکس اپنے والٹ ایڈریسز کو تبدیل کرتا رہتا ہے اور ایسی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جس سے فنڈز کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔

2021 میں پاسدارانِ انقلاب نے نوبی ٹیکس کے دفاتر پر چھاپہ مار کر اس وقت کے سی ای او امیر حسین رعد کو گرفتار بھی کیا تھا، جسے رعد نے ایران میں کاروبار کرنے کا ایک ’سائیڈ ایفیکٹ‘ قرار دیا تھا۔

رائٹرز کے دعویٰ کیا کہ ایران کے پابندیوں سے بچنے کے نظام کے ثبوت ایک غیر متوقع ذریعے سے سامنے آئے، جب دھوکہ دہی کے جرم میں قید ایرانی ارب پتی بابک زنجانی نے سوشل میڈیا پر والٹ ایڈریسز شائع کر دیے۔ ان ایڈریسز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ کم از کم 2 کروڑ ڈالر کے سینٹرل بینک فنڈز نوبی ٹیکس کے والٹس میں منتقل کیے گئے تھے۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ایرانی مرکزی بینک نے نومبر 2024 سے جون 2025 کے درمیان نوبی ٹیکس کے ذریعے تقریباً 34 کروڑ 70 لاکھ ڈالر منتقل کیے۔

حالیہ جنگ کے دوران جب ایران بھر میں انٹرنیٹ بند تھا، تب بھی نوبی ٹیکس کام کرتا رہا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اس جنگ کے دوران مٹھی بھر بااثر افراد نے ایکسچینج سے 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر نکال کر بیرونِ ملک منتقل کیے۔

یکم اپریل کو ہونے والے ایک فضائی حملے میں دونوں بھائیوں کے بڑے چچا کمال خرازی کا گھر بھی نشانہ بنا، جس میں ان کی اہلیہ ماری گئیں اور کمال خرازی بھی چند روز بعد دم توڑ گئے۔ سپریم لیڈر نے اس واقعے پر خرازی خاندان کے لیے تعزیتی پیغام جاری کیا تھا۔

Read Comments