ایران جنگ نے سعودی عرب میں شراب کی قلت پیدا کردی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ملک کے واحد شراب خانے میں بیئر، وائن اور ٹیکیلا جیسی الکوحل مصنوعات کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسٹور پر آنے والے خریداروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے سپلائی کو متاثر کیا ہے جس کے باعث شپمنٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ریاض کے ڈپلومیٹک ڈسٹرکٹ میں واقع اس اسٹور کا کوئی نام یا بورڈ نہیں ہے اور اسے 2024 میں غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے کھولا گیا تھا، جبکہ گزشتہ سال اس کی رسائی امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بھی بڑھا دی گئی تھی۔
اگرچہ سعودی عرب میں 1952 سے شراب پر عائد پابندی سرکاری طور پر اب بھی برقرار ہے، لیکن مملکت نے غیر ملکی ماہرین اور پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کے لیے اس ایک لائسنس یافتہ دکان کی اجازت دی ہے۔
حالیہ دنوں میں اسٹور کا دورہ کرنے والے پانچ افراد نے بتایا کہ اب وہاں الماریاں تقریباً خالی پڑی ہیں اور صرف چند مہنگے یا گمنام برانڈز ہی دستیاب ہیں۔
ایک مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہاں سفید شراب بالکل ختم ہو چکی ہے اور سرخ شراب کی بھی صرف چند مہنگی بوتلیں بچی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں حال ہی میں بیئر کی کچھ ایسی بوتلیں ملی ہیں جو کسی خاص برانڈ کی نہیں ہیں۔
اس کمی کی وجہ سے اسٹور کے باہر لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں اور غیر ملکی شہری اپنی قسمت آزمانے کے لیے دن کے وقت دفاتر سے کام چھوڑ کر وہاں پہنچ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطاقب اسٹور پر موجود عملے نے خریداروں کو بتایا ہے کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی شپمنٹس میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ ان ممالک میں سعودی عرب کے مقابلے میں شراب کے قوانین زیادہ نرم ہیں۔
رش اور بے یقینی کی وجہ سے قطاروں میں کھڑے لوگوں کے اعصاب جواب دے رہے ہیں اور بعض اوقات وہاں تلخ کلامی اور جھگڑے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، ریاض میں موجود یہ دکان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ سعودی عرب کو دنیا کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔
اس اسٹور کے کھلنے سے پہلے لوگ مقامی طور پر تیار کردہ مشروبات، سفارتی ذرائع یا بلیک مارکیٹ پر انحصار کرتے تھے جہاں معیار اور قیمت کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
گزشتہ سال یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ جدہ اور آرامکو کے علاقے میں بھی دو مزید اسٹورز کھولے جائیں گے، لیکن فی الحال ایسا نہیں ہو سکا ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے میڈیا آفس نے اس کمی یا اسے دور کرنے کے اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔