ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث 3 افراد کو پھانسی دے دی گئی
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید 3 افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے جب کہ حالیہ مہینوں میں گرفتاریوں اور سزاؤں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ کے مطابق مہدی رسولی اور محمد رضا میری کو مشہد میں جنوری کے مظاہروں میں ملوث ہونے پر پھانسی دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد موساد کے ایجنٹ تھے اور ان پر سیکیورٹی اہلکار کے قتل سمیت پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
عدالت نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے مولوتوف کاک ٹیل اور دھاری دار ہتھیار استعمال کیے، لوگوں کو قتل پر اکسایا اور براہ راست ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں شریک رہے۔
اسی طرح ابراہیم دولت آبادی کو بھی مشہد میں ہونے والے مظاہروں کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے پھانسی دی گئی، جن واقعات میں متعدد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق تینوں افراد کو سزائے موت ایران کی سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد دی گئی۔
حکام کے مطابق دسمبر اور جنوری میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے ابتدا میں پرامن تھے تاہم بعد میں وہ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے، جنہیں حکومت نے غیر ملکی طاقتوں کی سازش قرار دیا۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جب کہ تشدد کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ ماہ بیٹا ہمتی کو ان مظاہروں کے سلسلے میں سزائے موت سنانے والی پہلی خاتون قرار دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں سزائے موت پر عملدرآمد کی شرح دنیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہے اور رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں سیکڑوں افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے جب کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد مقدمات میں شفاف ٹرائل نہیں ہوئے اور اعترافی بیانات زبردستی حاصل کیے گئے ہیں۔