ایران کے ایٹمی بم بنانے کی صلاحیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ

ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔
شائع 05 مئ 2026 09:29am

امریکی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

اس وقت 7 اپریل سے جاری عارضی امن معاہدے کے تحت جنگ تو رکی ہوئی ہے لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں 20 فیصد تک کمی آئی ہے اور توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران تین سے چھ ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد یہ اندازہ نو ماہ سے ایک سال تک بڑھا دیا گیا تھا۔

تاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہے۔

سابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments