ایران کے حملوں کا خدشہ: امریکا کا عراق میں اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا حکم
امریکی سفارت خانے نے بغداد میں سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے عراق میں ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے اور شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
عراق کے شہر بغداد میں موجود امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک سیکیورٹی الرٹ میں کہا ہے کہ عراق کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہیں اور محدود تجارتی پروازیں بحال ہو چکی ہیں، تاہم فضائی سفر کے دوران میزائلوں، ڈرونز اور دیگر خطرات اب بھی موجود ہیں۔
بیان میں امریکی شہریوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ عراق کے لیے کسی بھی قسم کا سفر نہ کریں اور اگر پہلے سے موجود ہیں تو فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ سفارت خانے نے عراق کے لیے لیول 4 ”ڈو ناٹ ٹریول“ وارننگ برقرار رکھنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق ایران سے منسلک مسلح گروہ عراق میں امریکی شہریوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں کردستان ریجن بھی شامل ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض عراقی ادارے ان گروہوں کو سیاسی، مالی اور عملی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ بغداد میں امریکی مشن انخلاء کے احکامات کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ امریکی شہریوں کو مدد فراہم کی جا سکے، تاہم شہریوں کو سفارت خانے یا قونصل خانے جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو مدد کے لیے براہِ راست متعلقہ ای میلز کے ذریعے رابطہ کرنا چاہیے، جب کہ عراق کے مختلف ہوائی اڈوں اور پڑوسی ممالک کے ذریعے تجارتی اور زمینی راستے اب بھی دستیاب ہیں، تاہم سفر سے قبل سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ ضروری ہے۔
امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں عراق ایک اہم فلیش پوائنٹ کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور بیرونی اثر و رسوخ سے خطرات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث امریکا اور دیگر مغربی ممالک شہریوں کو احتیاط اور انخلا کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔