امریکی ارکان اسمبلی کا اسرائیلی ایٹمی پروگرام پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ، وزیر خارجہ کو خط
امریکا میں ڈیموریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے 30 ارکانِ اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دہائیوں سے جاری خاموشی اور ابہام کی پالیسی کو فوری طور پر ختم کرے۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی جوکوئن کاسترو کی قیادت میں ارلانِ اسمبلی نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک خط لکھا، جس میں زور دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران اس اہم حقیقت کا عوامی سطح پر اعتراف کرنا چاہیے۔
ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف اس بنیاد پر فوجی مہم چلا رہے ہیں کہ اسے ایٹم بم بنانے سے روکا جائے، جبکہ اسی دوران وہ اپنے اتحادی اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
خط میں اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم مکمل طور پر ایک ایسے ملک کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر یہ جنگ لڑ رہے ہیں جس کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کرنے سے امریکی حکومت سرکاری طور پر انکار کرتی آئی ہے۔
ڈیموکریٹس نے خط میں واضح کیا کہ کانگریس کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جوہری توازن، تنازع کے بڑھنے کے خطرات اور ہنگامی حالات کے لیے انتظامیہ کی منصوبہ بندی سے پوری طرح باخبر ہو، لیکن ہمیں اب تک ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ابہام کی یہ پالیسی مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو ناممکن بنا رہی ہے۔
ارکانِ اسمبلی نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو یاد دلایا کہ امریکا برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان، روس، چین اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگراموں کا کھل کر اعتراف کرتا ہے، لہٰذا اسرائیل کے لیے بھی وہی معیار اپنایا جانا چاہیے جو کسی بھی دوسرے ملک کے لیے ہے۔
خط میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا کہ اگر ایران ایٹم بم بناتا ہے تو ان کا ملک بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل سے بھی شفافیت کا وہی تقاضا کیا جائے جو امریکا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے کرتا ہے تاکہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو شفاف طریقے سے روکا جا سکے۔