سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں: عدالتی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے، عدالتی فیصلہ
شائع 06 مئ 2026 11:35am

سپریم کورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دونوں عدالتیں ایک دوسرے کی ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ ہیں، جبکہ آئینی اور ریگولر مقدمات کو الگ الگ فورمز پر سننے کا اصول بھی طے کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 189 کسی ایک عدالت کو دوسری کے ماتحت نہیں بناتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ سننا آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے۔

عدالت کے مطابق آئینی نوعیت کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی جبکہ ریگولر اور سول نوعیت کے مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہیں گے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئینی درخواستوں سے متعلق اپیلیں اب وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی، جبکہ عام سول اپیلوں کا اختیار بدستور سپریم کورٹ کے پاس رہے گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹس کے آئینی نوعیت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں بھی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی، جبکہ کرایہ داری اور بعض خاندانی معاملات آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

عدالت نے مزید کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات کو الگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سول نوعیت کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت رہیں گی۔

فیصلے کے مطابق توہین عدالت کے مقدمات اسی عدالت میں سنے جائیں گے جس کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہو، جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات سے متعلق توہین عدالت کارروائی سپریم کورٹ ہی میں چلے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے عدالتی احترام کا اصول اختیار کیا جائے گا اور دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کا احترام کرتے ہوئے اپنے فیصلے کریں گی۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو خصوصی آئینی دائرہ اختیار حاصل ہے، جس کے تحت نظامِ عدل میں اختیارات کی نئی تقسیم واضح ہو گئی ہے۔

Read Comments