بیشتر اسرائیلی ایران جنگ کے خاتمے کے حق میں نہیں: سروے
اسرائیل میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے مطابق زیادہ تر شہری موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حق میں نہیں ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات اور مستقبل میں بڑے فوجی تصادم کے امکانات پر بھی شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی تھنک ٹینک اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق 59 فیصد اسرائیلی شہری اس وقت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مخالف ہیں۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ یہ اکثریت سمجھتی ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ کا خاتمہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے مفادات کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ یہ رائے خاص طور پر یہودی آبادی میں زیادہ مضبوط ہے، جہاں دو تہائی سے زائد افراد نے کہا کہ فوری جنگ بندی یا خاتمہ سیکیورٹی کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔
دوسری جانب عرب شہریوں میں رائے منقسم رہی، اور تقریباً نصف افراد نے کہا کہ ان کے مطابق جنگ کا خاتمہ اسرائیل کے مفاد میں کسی حد تک بہتر ہو سکتا ہے۔
سروے کے مطابق 62 فیصد شرکاء کو توقع ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ 51 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ دفاعی فیصلوں پر امریکا کا اثر و رسوخ اپنی حکومت سے زیادہ ہے، جو اکتوبر 2025 کے 44 فیصد کے مقابلے میں اضافہ ہے۔ صرف 18 فیصد نے اپنی حکومت کو زیادہ بااثر قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 72 فیصد افراد کو امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں بڑھتے ہوئے منفی رجحانات پر تشویش ہے۔
اسی طرح لبنان کے حوالے سے بھی اکثریت نے مایوسی کا اظہار کیا ہے، جہاں دو تہائی اسرائیلیوں کے مطابق حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سمیت کوئی بھی پائیدار معاہدہ طے پانے کے امکانات کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ یہ رجحان یہودی آبادی میں تقریباً 80 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔