ایرانی حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا: واشنگٹن پوسٹ
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے فضائی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے، اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آگئیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی فضائی حملوں میں کم از کم 15 امریکی فوجی اڈوں پر 228 عمارتوں اور فوجی ساز و سامان کو نقصان پہنچا، جن میں 217 عمارتیں اور 11 فوجی اثاثے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثر ہونے والی تنصیبات میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، طیارے، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی آلات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصانات کی یہ سطح امریکی حکومت کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے کہیں زیادہ ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت کے تین فوجی اڈوں پر ہوا، جہاں حملے زیادہ شدت کے ساتھ کیے گئے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان مقامات کو ممکنہ طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں سے کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق بحرین اور کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تباہ ہوئے جب کہ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقام پر سیٹلائٹ ڈش کو بھی نقصان پہنچا۔
اس کے علاوہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں تھاڈ ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک E-3 سینٹری طیارہ تباہ ہوا جب کہ ایک ایندھن بردار طیارہ بھی ضائع ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو فلوریڈا منتقل کرنا پڑا جب کہ بعض امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی واپسی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین سے امریکی جارحانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دی تاہم بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں سے HIMARS جیسے امریکی راکٹ سسٹمز کے ذریعے ایران پر حملے کیے جارہے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ نے واضح کیا کہ یہ جائزہ صرف دستیاب سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی جزوی تخمینہ ہے اور اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔