آپریشن معرکۂ حق کے 72 گھنٹے

یہ کہانی شروع ہوئی 6 مئی کی تاریک رات سے، جب پاکستانی عوام معمول کے مطابق سو رہے تھے، لیکن سرحد کے اُس پار بھارت نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا تھا۔
اپ ڈیٹ 07 مئ 2026 10:00am

پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے گزرے ہیں جو پوری قوم کے لیے آزمائش ثابت ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر 1965 ایسا ہی ایک دن تھا، اور پھر مئی 2025 میں بھارت کی جارحیت کے خلاف شروع کیا گیا آنے والا ’آپریشن معرکۂ حق‘ بھی انہی تاریخی لمحات میں شامل ہو گیا۔ یہ صرف میزائلوں، جہازوں اور بارود کی جنگ نہیں تھی، بلکہ اعصاب، حوصلے، سفارت کاری، میڈیا اور قومی اتحاد کی جنگ تھی۔ ان 72 گھنٹوں میں پورا پاکستان تمام اختلافات بھلا کر ایک آواز ہو گیا تھا۔

یہ کہانی شروع ہوئی 6 مئی کی تاریک رات سے۔

پاکستانی عوام معمول کے مطابق سو رہے تھے، لیکن سرحد کے اُس پار بھارت نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا تھا۔

بھارت نے پاکستان میں بہاولپور کے احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، مظفرآباد اور کوٹلی سمیت چھ مقامات پر حملے کیے۔ ان حملوں میں 36 معصوم پاکستانی شہید ہوئے، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ شامل تھے۔

سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ بھارت نے براہموس کروز میزائل استعمال کیے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن کے ساتھ خطرناک کھیل تھا۔

پاکستان کے اندر غصہ تھا، دکھ تھا، لیکن گھبراہٹ نہیں تھی۔ قوم جانتی تھی کہ جواب ضرور آئے گا۔

بھارت نے حملے کا جواز پہلگام واقعے کو بنایا، جہاں مقبوضہ کشمیر میں 26 سیاح مارے گئے تھے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا، یعنی ایسا واقعہ جس کا الزام پاکستان پر ڈال کر جنگی ماحول بنایا گیا۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے کئی مقاصد تھے۔ ایک مقصد پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی کا حامی ثابت کرنا تھا، دوسرا مقصد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا بہانہ بنانا تھا، جبکہ تیسرا مقصد بہار کے انتخابات سے پہلے مودی حکومت کی اندرونی سیاست کو فائدہ پہنچانا تھا۔

لیکن شاید بھارت نے پاکستان کے ردعمل کا اندازہ غلط لگا لیا تھا۔

7 مئی کی صبح وہ لمحہ آیا جس نے جنگ کا رخ بدل دیا۔

پاکستان ایئر فورس نے ایسا جواب دیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سات رافیل طیارے تباہ ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بھارت کے اندر ہلچل مچ گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بار بار کہا، ”پاکستان نے بھارتی جہاز گرائے“۔ انہوں نے تعداد ”سات سے گیارہ تک“ تک بتائی۔

پاکستان کے اندر اس خبر نے قوم کا حوصلہ آسمان تک پہنچا دیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ایک ہی بات ہو رہی تھی: ”پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔“

بھارت اس صدمے کے بعد مزید بوکھلا گیا۔ اس نے ڈرون حملے شروع کیے، پاکستانی ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں نور خان، شورکوٹ، بھولاری، جیکب آباد اور رفیقی بیس شامل تھیں۔

لیکن پاکستان نے یہاں بھی بھرپور دفاع کیا۔ 84 بھارتی ڈرون تباہ کیے گئے جبکہ کئی میزائل راستے میں ہی تباہ کردیے گئے۔

پھر آیا 10 مئی۔

یہ وہ دن تھا جب پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ شروع کیا، جس کا مطلب ہے ’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘۔ یعنی ایسی طاقتور دیوار جسے توڑا نہ جا سکے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اُڑی، نوشہرہ، راجوڑی، پونچھ، سرسا، انبالہ، جموں، بھج اور کئی فوجی اڈے حملوں کی زد میں آئے۔

رپورٹس کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر 50 بھارتی فوجی مارے گئے۔

سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کے مشہور ایس-400 دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہی وہ سسٹم تھا جسے بھارت اپنی فضائی ڈھال سمجھتا تھا۔

پاکستان کے لیے یہ صرف فوجی کامیابی نہیں تھی، بلکہ نفسیاتی فتح بھی تھی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کو تقریباً 84 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ عالمی سطح پر بھی بھارت پر تنقید شروع ہو گئی کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔

آخرکار بھارت نے امریکا سے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔

اس تمام صورتحال میں سب سے اہم کردار جو سامنے آیا وہ تھے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، جو کہ ’اسٹریٹجک ماسٹر مائنڈ‘ ثابت ہوئے۔

انہوں نے نہ صرف جنگی حکمت عملی بنائی بلکہ سفارتی میدان میں بھی پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا۔

اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی نسبتاً محتاط اور پرسکون سفارتی انداز اپنایا۔ اور اس دوہری اسٹریٹیجی نے ثابت کیا کہ جب تلوار اور قلم ایک ساتھ چلیں تو دشمن زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔

معرکۂ حق نے ایک اور حقیقت واضح کر دی: پاکستان اب 1971 والا پاکستان نہیں رہا۔

‘آپریشن بنیان مرصوص‘ 1987 کے ’آپریشن براس ٹیکس‘ کی بھی یاد دلاتا ہے، جب بھارت نے سرحد پر فوجیں جمع کر لی تھیں۔ اُس وقت جنرل ضیاء الحق نے ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بھارت کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب آگ سے دیا جائے گا۔

معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ میڈیا اور سفارت کاری میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس بار دنیا نے ہر بھارتی دعوے کو فوراً قبول نہیں کیا۔ کئی عالمی حلقوں نے سوال اٹھائے کہ اگر بھارت کے پاس ثبوت تھے تو وہ دنیا کے سامنے کیوں پیش نہ کیے گئے؟

پاکستان کے اندر اس جنگ نے قوم کو متحد کر دیا۔ لوگ سیاسی اختلافات بھول کر فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ شہداء کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، بچوں نے پاکستانی جھنڈے اٹھائے، اور ہر طرف ایک ہی جذبہ تھا: ’پاکستان زندہ باد‘۔

آپریشن معرکۂ حق کے اثرات اب بھی نظر آرہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست بدل رہی ہے، عالمی طاقتیں نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، اور پاکستان اب خود کو صرف دفاعی ملک نہیں بلکہ خطے کے ’سیکیورٹی اسٹیبلائزر‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

پاکستانی عوام کے لیے یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی۔ یہ عزت، بقا، خودمختاری اور جواب دینے کی صلاحیت کا امتحان تھا۔

اور پاکستان اس امتحان میں سرخرو ہوا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Read Comments