سی این این کے بانی اور صاف گو میڈیا ٹائیکون ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے
دنیا کے پہلے 24 گھنٹے خبریں نشر کرنے والے نیوز چینل سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ٹیڈ ٹرنر کی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کا انتقال بدھ کے روز ہوا۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے اعصاب کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھے۔
ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کی سیاسی، صحافتی اور سماجی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور میڈیا کی دنیا میں ان کی خدمات کو یاد کیا۔
ٹیڈ ٹرنر کو جدید ٹی وی صحافت میں انقلاب لانے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز والد کے اشتہاری کاروبار سے کیا۔ 1970 میں انہوں نے ایک ناکام ٹی وی اسٹیشن خریدا اور اپنی محنت سے اسے ایک بڑے نیٹ ورک میں بدل دیا۔
1980 میں انہوں نے ’سی این این‘ کی بنیاد رکھی، جس نے خبروں کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا چینل تھا جو 24 گھنٹے خبریں نشر کرتا تھا۔ اس سے پہلے دنیا میں کوئی بھی نیوز چینل مسلسل 24 گھنٹے نشریات نہیں دیتا تھا۔
ابتدا میں لوگ سی این این کو ”چکن نوڈل نیٹ ورک“ کہہ کر مذاق اڑاتے تھے، مگر بعد میں یہی چینل دنیا کا پہلا 24 گھنٹے خبریں نشر کرنے والا ادارہ بن گیا۔
ٹیڈ ٹرنر کا کہنا تھا،”سیٹلائٹ میں مسئلہ نہ آیا تو ہم دنیا کے خاتمے تک نشریات بند نہیں کریں گے۔“
انہوں نے کھیلوں، فلموں اور تفریحی چینلز میں بھی سرمایہ کاری کی اور ان کی کمپنی بعد میں ٹائم وارنر کے ساتھ ضم ہوگئی۔
ان کی وفات پر دنیا بھر سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سی این این کے سابق سربراہ والٹرآئزاکسن نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ، ”وہ میری زندگی کے سب سے نڈر صحافی تھے، جو بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر کے سامنے بھی نہیں جھکتے تھے۔“
سی این این کے موجودہ چیئرمین مارک تھامسن نے اپنے بیان میں کہا، ’ٹیڈ ٹرنر ہمیشہ سی این این کی روح رہیں گے۔ ہم آج بھی انہی کے وژن پر کھڑے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹیڈ ٹرنر نشریاتی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک تھے، انہوں نے سی این این قائم کیا اور بعد میں اسے فروخت کیا۔ انہوں نے سی این این کو اپنے بچے کی طرح پالا تھا۔ لیکن وہ اس بات پر دکھی تھے کہ نئے مالکان نے ان کے ادارے کو بدل دیا۔ وہ میرے دوست تھے اور ہمیشہ اچھے مقصد کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔‘
ٹیڈ ٹرنر صرف میڈیا تک محدود نہیں تھے، بلکہ ماحولیات اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے۔ وہ ایک بڑے دل کے مالک انسان بھی تھے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کو ایک ارب ڈالر کا تاریخی عطیہ دیا، جس پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ، ’’ٹیڈ ٹرنر کی ایک ارب ڈالر کی امداد نے فلاحی کاموں کی دنیا بدل دی۔ ان کی اصل میراث صرف رقم نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور سفارت کاری کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد تھی۔‘
سی این این کی مشہور اینکر کرسٹیان امان پور نے انہیں ایک ’دیو قامت شخصیت‘ قرار دیا جنہوں نے دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل دیا۔
کھیلوں کی دنیا میں بھی ان کا بڑا نام تھا۔ وہ مشہور بیس بال ٹیم ’اٹلانٹا بریوز‘ کے مالک رہے اور اپنی ٹیم کو بلندیوں تک پہنچایا جبکہ کشتی رانی کے عالمی مقابلوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
ریسلنگ کی دنیا کے مشہور اسٹار رِک فلیئر نے بھی انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ، ’ٹیڈ ٹرنر خطرہ مول لینے سے نہیں ڈرتے تھے۔ انہوں نے بہت سے ریسلرز کو مواقع فراہم کیے اور کیبل ٹی وی کو نئی پہچان دی۔‘
ٹیڈ ٹرنر نے تین شادیاں کیں اور ان کے پانچ بچے ہیں۔ ان کی زندگی جہاں کامیابیوں سے بھری تھی، وہیں وہ ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کے خلاف بھی لڑتے رہے۔ انہوں نے ایک بار خود کہا تھا کہ ”اگر مجھ میں تھوڑی سی عاجزی ہوتی تو میں ایک مکمل انسان ہوتا۔“
ان کی وفات سے عالمی میڈیا اور فلاحی کاموں کا ایک سنہرا دور ختم ہو گیا ہے۔ ٹیڈ ٹرنر کی وفات کو عالمی صحافت اور میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک بڑے نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔