پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

معرکہ حق میں جو کچھ ہوا وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے، اگرچہ وہ اسے تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
اپ ڈیٹ 07 مئ 2026 04:18pm

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پوری اتری ہیں اور ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعرات کو میڈیا سے خطاب میں کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہوا وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے، اگرچہ وہ اسے تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کی فوجی اور سیاسی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ملٹری جو کبھی پروفیشنل کہلاتی تھی اب مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے، بھارت کے سیاست دان، سیاست دان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آؤ سامنے جو کرنا ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم کھڑے ہیں، بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے۔ اور ان کے سیاستدان جنگ جو لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو دنیا کے سامنے نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر کے طور پر پیش کرتا رہا ہے لیکن حقیقت میں بھارت خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے جو مقبوضہ کشمیر میں معصوم عوام پر بدترین مظالم ڈھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگاتا ہے لیکن اب دنیا اس کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ بھارت نے اس جنگ کے دوران سراسر جھوٹ پر مبنی بیانیہ اپنایا اور مکارانہ طریقے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے، جبکہ ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ وہ خود ان سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

انہوں نے پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن پاکستان نے اس وقت جو سوالات اٹھائے تھے، بھارت آج تک ان کا جواب نہیں دے سکا اور وہ سوالات اب بھی جوں کے توں موجود ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر ایک متنازع علاقہ ہے اور وہاں کے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے ایک سال پہلے ثابت کر دیا تھا کہ جذبہ ایمانی اور پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے عددی برتری کوئی معنی نہیں رکھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کی کامیابی اس بات کی گواہ ہے کہ جب دشمن نے مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے زمین، فضا اور سمندر ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی۔ پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کے افسران کی مشترکہ موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ دفاع وطن کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر اور متحد ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے خبردار کیا کہ موجودہ دور کی کثیرالجہتی جنگ اب گلی محلوں اور ذہنوں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ”کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ دو جوہری ملک جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان مکمل جنگ ہو سکتی ہے، وہ پاگل ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اور قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اس جنگ میں اپنی پراکسیز اور خفیہ حربوں کا بھرپور استعمال کیا لیکن مسلح افواج اور قوم نے متحد ہو کر اس جنگ کو لڑا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت وہاں ظلم و جبر کے ذریعے اپنا تسلط برقرار نہیں رکھ سکتا۔

پاک فوج کے ترجمان نے بھارت اور افغان طالبان کے درمیان ”غیر فطری گٹھ جوڑ“ کا پردہ چاک کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور وہاں سے دہشت گردانہ حملے کروا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق جب بھارت کو جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اپنی ان خفیہ پراکسیز کو متحرک کیا تاکہ پاکستان میں بدامنی پھیلائی جا سکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی ایجنسیوں کے طریقہ کار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مردانہ نام کیوں نہیں رکھتے اور ”سندور“ جیسے کوڈ نیمز کے پیچھے کیوں چھپتے ہیں، جبکہ سندور تو خواتین لگاتی ہیں۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی ہندوستان کی ایما پر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے ان لوگوں کی مدد کی جو ہندوتوا کا پرچار کرتے ہیں، اور یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے مدد کے لیے افغان طالبان کے وزیر خارجہ کو بھی بلایا، جو اس گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔

پاک فوج کی جوابی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ پاک فوج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا ہے اور ”آپریشن غضب للحق“ کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی ”بنیان المرصوص“ کی طرح متحد ہیں اور اس جنگ کو مل کر لڑا گیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دشمن چاہے کتنی ہی مکارانہ چالیں چل لے، پاکستانی قوم اور افواج کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اور اسلام سےکوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان نے بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کردیا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے افغان طالبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کفار سے معاہدہ کرکے اسلامی مملکت پرحملہ کرنا ان کا جہاد ہے، یہ خارجی دائرہ اسلام سے باہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فیلڈ مارشل دن رات بھارت اور مودی کے خواب میں آتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد استعمال کیا تھا۔

ترجمانپاک فوج نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو اس فتح کا جشن منانے کے لیے ایک عظیم الشان پریڈ ہوگی۔ مسلح افواج کی پریڈ میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا۔

وکرانت کو غرق کرنے کے لیے تیار تھے، ڈپٹی نیول چیف

پاکستان کے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے معرکہ حق کی کامیابی پر پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کی ذات کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے جس نے ہمیں دشمن کے خلاف کامیابی عطا فرمائی۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھارت کو اپنی بحریہ پر بہت زیادہ غرور اور ناز تھا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی بحری قوت جہاں اور جب چاہے کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن پاک بحریہ نے ان کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔

ڈپٹی نیول چیف نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران بھارت نے کئی بار بحیرہ عرب میں اپنا بحری بیڑہ وکرانت تعینات کرنے کی کوشش کی تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے، لیکن پاک بحریہ نے نہ صرف اپنی سمندری گزرگاہوں کو محفوظ رکھا بلکہ دشمن کی ہر حرکت پر کڑی نظر بھی رکھی۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم بھارتی بحری بیڑے وکرانت کو سمندر برد کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے اور دشمن کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اگر اس نے حد عبور کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس فتح کی سب سے بڑی وجہ مسلح افواج کے درمیان بہترین ہم آہنگی تھی، جس نے دشمن کی عددی برتری کو بے معنی کر دیا۔

ڈپٹی نیول چیف نے کہا کہ جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد بھارت نے ہمیشہ کی طرح غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سہارا لیا تاکہ اپنی شرمندگی کو چھپا سکے۔

انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی بحری حدود کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو ویسا ہی منہ توڑ جواب دیا جائے گا جیسا اس معرکے میں دیا گیا تھا۔

معرکہ حق میں ہمارا اسکور اسکور 0-8 رہا: ڈپٹی ایئر چیف

پاک فضائیہ کے ڈپٹی ایئر چیف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کا پلہ بھاری رہا اور فضائی معرکے میں پاکستان کا اسکور 0-8 رہا، یعنی پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ بھارت کے 8 طیارے مار گرائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایئر چیف مارشل نے بہترین دفاعی حکمت عملی ترتیب دی تھی، جس کی بدولت پاک فضائیہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

ڈپٹی ایئر چیف نے بتایا کہ ہماری سائبر فورس نے کمال مہارت دکھاتے ہوئے نہ صرف بھارتی فضائیہ کی بروقت آگاہی فراہم کی بلکہ بھارت کا سیٹلائٹ نظام بھی جام کر دیا، جس سے دشمن مفلوج ہو کر رہ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے چار کو پاک فضائیہ نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک ایس یو 30، ایک مگ اور ایک میراج طیارہ بھی مار گرایا گیا۔ ان کے علاوہ ایک ملٹی رول ایریل سسٹم بھی تباہ کیا گیا، دو ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی بیٹریز بھی تباہ کی گئیں۔ بھارت کےایئر بیسز، دفاعی نظام اور کمیونیکیشن سسٹم کو بھی تباہ کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جے 10، جے ایف 17 اور ایف 16 طیارے بھرپور جواب کے لیے ہمہ وقت تیار تھے اور بھارتی فضائیہ کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرنے دی گئی۔

ڈپٹی ایئر چیف کے مطابق پاکستان کا یہ ردعمل بھارتی فضائیہ کے لیے ایک ایسا ناقابلِ فراموش سبق تھا جس کے بعد بھارت کو ہر بار اپنی ناکامی چھپانے کے لیے نئی کہانیاں گھڑنی پڑتی ہیں۔

انہوں نے فخر سے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے ٹاپ لائن فائٹرز کو نشانہ بنا کر اپنی فضائی برتری ثابت کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بہت کچھ اور بھی بتا سکتا ہوں لیکن تھوڑا بہت رہنے دیں تاکہ دشمن کو اگلی مرتبہ سرپرائز کرسکیں۔

خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔۔۔

Read Comments