ایران تاحال امریکی تجویز پر حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا: اسماعیل بقائی

امریکا کو اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا: ایرانی وزارتِ خارجہ
اپ ڈیٹ 07 مئ 2026 11:44pm

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران ابھی تک امریکی تجویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا اور معاملہ تاحال زیر غور ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکی تجویز کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے مرحلے میں نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تہران کی جانب سے امریکا کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا ہے اور معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق جب ایران کسی حتمی فیصلے پر پہنچے گا تو اس سے متعلق پیغامات ثالثی کے ذریعے متعلقہ فریقین تک پہنچا دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیغامات کے تبادلے کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔

ایرانی ترجمان کے بیان کے مطابق سفارتی سطح پر رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اپنی قومی پالیسی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز بھی ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ تہران امریکا کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اس معاملے پر تفصیلی غورکر رہا ہے اورحتمی مؤقف بعد میں سامنے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

بدھ کے روز اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا تصور کم از کم اس بات کا متقاضی ہے کہ تنازع کے حل کے لیے حقیقی نیت کے ساتھ بات چیت کی جائے، جیسا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے 1 اپریل 2011 کے فیصلے (پیرا 157) میں بھی کہا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق مذاکرات کے لیے نیک نیتی ضروری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات محض بحث و تکرار نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں حکم مسلط کرنے، دھوکا دہی، بلیک میلنگ یا جبر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی کا انحصار خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور پابندیوں کے خاتمے پر ہے۔ ان کے مطابق جب حالات معمول پر آئیں گے تو اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی بھی دوبارہ بحال ہو جائے گی۔

الجزیرہ‘ کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک مجوزہ قرارداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ عراقچی کے مطابق اس بحران کی اصل وجہ امریکا کی جانب سے طاقت کا استعمال اور ایران پر کیے گئے حملے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں براہِ راست امریکی پالیسیوں اور فوجی اقدامات کا نتیجہ ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی ہو، پابندیاں ختم کی جائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

Read Comments