صدر ٹرمپ کی امریکی بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق، ایرانی کشتیوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کسی بھی وقت ایک اہم معاہدے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا ٹروتھ پر جاری بیان کے مطابق ایرانی جانب سے حملے میں میزائل، بغیر پائلٹ طیارے اور چھوٹی کشتیاں استعمال کی گئیں، تاہم امریکی جہاز محفوظ رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ کرنے والی کشتیاں تباہ کر دی گئیں اور کئی سمندر برد ہو گئیں۔ داغے گئے میزائل راستے ہی میں ناکام بنا دیے گئے جبکہ بغیر پائلٹ طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر گئے۔ ان کے مطابق اس دوران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم حملہ ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آور عناصر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والی چھوٹی کشتیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپیں اس وقت سامنے آئیں جب واشنگٹن ایران کی جانب سے ایک امریکی تجویز کے جواب کا انتظار کر رہا تھا، جس کا مقصد لڑائی روکنا تھا، تاہم اس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم تنازعات کو فی الحال شامل نہیں کیا گیا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی ڈسٹرائرز پر میزائل داغے گئے جنہیں باآسانی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ ڈرون حملوں کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ ان کے بقول ایرانی ڈرونز سمندر میں گر گئے اور امریکی بحری جہاز مکمل طور پر محفوظ رہے۔
ٹرمپ نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ”معمول کا ملک“ امریکی جنگی جہازوں کو گزرنے سے نہیں روکتا، تاہم ایران کا طرزِ عمل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جن کا رویہ غیر متوازن ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو ایسا موقع ملا تو وہ اسے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا، اس لیے اسے روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو امریکا پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے آج ایران کو ”ناک آؤٹ“ کیا ہے اور اگر ڈیل نہ ہوئی تو اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے، لہٰذا ایران کو جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔