آبنائے ہرمز میں جھڑپ: ایران کا امریکی فوج کو پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ

خطے میں طاقت کا توازن تبدیل اور امریکا کے دباؤ کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے: ایران
اپ ڈیٹ 08 مئ 2026 09:46am

آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات امریکی حملے کے جواب میں اس کی بحری اور میزائل فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے امریکی یونٹس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی کے مطابق مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ نے تازہ بیان میں بتایا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے جمعے کی شب آبنائے ہرمز اور جنوبی ایرانی ساحلی علاقوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کا فوری جواب دیا ہے۔

ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق قشم جزیرے، بندر خمیر اور سیرک کے ساحلی علاقوں میں شہری مقامات پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔

ایرانی فوج کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی سرزمین پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں پر کارروائی کی۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔

ایرانی فوج نے کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرق اور بندرگاہ چاہ بہار کے جنوب میں موجود امریکی فوجی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود امریکی یونٹس کو بھاری نقصان پہنچا، دشمن ان میزائل حملوں سے ہڑبڑا گیا اور انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے ان میزائیل حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے، جس میں میزائیلوں پر مختلف شہداء کے نام اور تصاویر چسپاں نظر آرہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جھڑپوں کے دوران جزیرہ قشم میں واقع بہمن پیئر بھی حملے کی زد میں آیا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے مزید نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک جلد اپنے دشمنوں کے خلاف ’عظیم فتح‘ کا جشن منائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے جاری دباؤ کا دور اختتام کے قریب ہے اور ایران پر عائد پابندیاں بھی جلد ختم ہو سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں جھڑپیں شروع ہوتے ہی تہران میں حفاظتی اقدامات کے تحت فضائی دفاع کے نظام کو بھی متحرک کر دیا گیا، تہران شہر میں عوام جوش و خروش کے ساتھ ایرانی پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آئے اور امریکا مخالف نعرے بازی کرنے لگے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی فوجی ترجمان نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی جان لیں کہ ایران کسی بھی جارحیت یا حملے کا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سخت جواب دے گا۔

ان جھڑپوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کسی بھی وقت ایک اہم معاہدے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کے تین طیارہ بردار جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر گئے۔ ان کے مطابق اس دوران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ایران کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والی چھوٹی کشتیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں کو ’گمراہ کن پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ بار بار ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Read Comments