تھائی لینڈ کے ذریعے نیوڈیا چپس چین اسمگل کیے جانے کا انکشاف
امریکی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ تھائی لینڈ میں قائم کمپنی نے جدید نیوڈیا چپس پر مشتمل اربوں ڈالر مالیت کے سرور چین اسمگل کرنے میں کردیا ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سرورز امریکی کمپنی سپر مائیکرو کمپیوٹر کے تیار کردہ تھے، جن میں جدید مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والی نیوڈیا کی اعلیٰ درجے کی چپس شامل تھیں۔ مبینہ طور پر یہ سامان تھائی لینڈ کے ذریعے چین منتقل کیا گیا۔
بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاملے میں ایک غیر ظاہر کردہ جنوب مشرقی ایشیائی کمپنی، جسے تفتیش میں ’’کمپنی ون‘‘ کہا گیا ہے، مرکزی کردار میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمپنی کی شناخت تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں قائم ابون کارپوریشن کے طور پر کی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ان سرورز کے حتمی خریداروں میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا گروپ ہولڈنگ بھی شامل تھی، تاہم کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا سپر مائیکرو کمپیوٹر یا ابون سمیت کسی بھی ثالثی کمپنی سے کوئی تجارتی تعلق نہیں۔
دوسری جانب نیوڈیا، سپر مائیکرو اور ابون کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی محکمہ انصاف پہلے ہی مارچ میں سپر مائیکرو کے بعض سابق عہدیداروں پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ امریکی سرورز کو تائیوان کے راستے جنوب مشرقی ایشیا منتقل کرکے چین بھیجنے کے مبینہ نیٹ ورک میں ملوث رہے۔ اس اسکیم کے ذریعے مبینہ طور پر کم از کم 2.5 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی منتقل کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے کچھ سرورز بعد ازاں علی بابا کو فراہم کیے گئے۔
واضح رہے کہ امریکا نے 2022 میں جدید نیوڈیا چپس کی چین کو برآمد پر پابندی عائد کی تھی، تاہم بعد ازاں کچھ مخصوص شرائط کے تحت محدود برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔
ادھر سپر مائیکرو کے حصص یافتگان نے بھی کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں الزام ہے کہ کمپنی نے چین کو ہونے والی مبینہ غیر قانونی فروخت کو چھپایا۔