اسرائیل میں فلسطینیوں سے کیا گیا اہم معاہدہ ختم کرنے کی تیاری

اوسلو معاہدے 1993 اور 1995 میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پائے تھے، جن کے تحت دونوں فریقوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو تسلیم کیا تھا
اپ ڈیٹ 10 مئ 2026 10:14am

اسرائیل کی انتہا پسند رکن پارلیمنٹ اور کنیسٹ کی ڈپٹی اسپیکر لیمور سون ہار میلیخ نے کہا ہے کہ اوسلو معاہدے ختم کرنے سے متعلق ان کا پیش کردہ بل آج وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس بل کو فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لیمور سون ہار میلیخ نے کہا کہ یہ بل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جانب “پہلا اور ضروری قدم” ہے۔

اوسلو معاہدے 1993 اور 1995 میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پائے تھے، جن کے تحت دونوں فریقوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو تسلیم کیا تھا۔ انہی معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔

معاہدوں کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایریا اے فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں، ایریا بی مشترکہ اسرائیلی اور فلسطینی کنٹرول میں جبکہ ایریا سی مکمل اسرائیلی کنٹرول میں رکھا گیا تھا۔

اوسلو معاہدوں کا مقصد عبوری بنیادوں پر امن عمل کو آگے بڑھانا اور مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم اسرائیل میں اس فریم ورک اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر سیاسی اختلافات مسلسل موجود رہے ہیں۔

لیمور سون ہار میلیخ کے بل میں مبینہ طور پر ایریا اے اور بی میں اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

اسرائیلی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی، جو حکومتی وزرا پر مشتمل ہوتی ہے، یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کسی بل کو سرکاری حمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔ اگر کمیٹی نے اس بل کی منظوری دے دی تو یہ مزید کارروائی کیلئے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ مسترد ہونے کی صورت میں بل ابتدائی مرحلے میں ہی رک سکتا ہے۔

Read Comments