ایران نے امریکی تجاویز پر باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا: ایرانی سرکاری میڈیا

مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ صرف جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے تک محدود ہوگا: رائٹرز
اپ ڈیٹ 10 مئ 2026 06:34pm

ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پہنچایا گیا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی ’اِرنا‘ نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے فریم ورک کے تحت آئندہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں صرف جنگ کے مستقل خاتمے کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

رائٹرز کے مطابق دونوں جانب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نئی پیش رفت کا مقصد ایک عارضی مفاہمتی یادداشت طے کرنا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس ابتدائی فریم ورک کے بعد ایک مکمل معاہدے پر بات چیت ہوگی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ اور دیرینہ اختلافات کے حل پر بھی بات چیت ہوگی۔

اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی موقف داخلی جائزے اور اعلیٰ سطح کے مشوروں کے بعد ہی پاکستانی حکام کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا جائے گا۔

اس پورے بحران میں پاکستان کا بطور ثالث کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہی 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی تقریباً 40 روز سے جاری مشترکہ جارحیت کا سلسلہ تھم گیا تھا۔

جنگ بندی کے چند روز بعد اسلام آباد میں فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دور بھی ہوا تھا، تاہم اس وقت کوئی بڑا بریک تھرو حاصل نہیں ہو سکا تھا۔

ایران کا مؤقف تھا کہ جب تک امریکا اس پر عائد تمام معاشی پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں کرتا اور اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی تجویز پر جواب کو بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے امریکی تجویز پر تہران کے جواب کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، تاہم اس پیش رفت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے کئی ہفتوں سے برقرار ڈیڈلاک ختم ہوا ہے۔

Read Comments