لبنان میں اسرائیلی 'کیمیکل بموں' کا استعمال، زخمیوں کے جسموں سے چوکور ذرات برآمد

غزہ کی طرح لبنان میں زخمی شہریوں کے جسموں میں بھی ننھے ٹنگسٹن کیوبز پائے گئے، سرجن ڈاکٹر طاہر محمد
اپ ڈیٹ 11 مئ 2026 12:54pm

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے کہا ہے کہ اسرائیلی بموں سے نکلنے والے مہلک دھاتی ذرات لبنان میں زخمی ہونے والے شہریوں کے جسموں سے بھی برآمد ہو رہے ہیں، جو اس سے قبل غزہ میں شدید اندرونی زخموں کا سبب بن چکے ہیں۔

سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے زخمیوں کے جسموں سے باریک دھاتی ذرات برآمد ہوئے ہیں، جو دھماکے کے بعد جسم کے اندر پھیل کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ننھے ٹنگسٹن کیوبز اسرائیلی بموں سے خارج ہوتے ہیں اور انسانی جسم میں داخل ہو کر اعضا کو بری طرح متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث زخمیوں کا علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر محمد کے مطابق یہی دھاتی ذرات اس سے قبل غزہ میں بھی شہریوں کے جسموں میں پائے گئے تھے، جہاں ان کے باعث تباہ کن اندرونی زخم سامنے آئے۔

انہوں نے اسرائیلی ہتھیاروں کو ’’اندھا دھند‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیار عام شہریوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ اور لبنان میں بھی ایسے بم استعمال کر چکا ہے جن کے اثرات انسانی جسم پر نہایت مہلک ہوتے ہیں۔

Read Comments