امریکیوں کو ٹرمپ پر قاتلانہ حملوں کی حقیقت پر شک کیوں ہے؟

سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا۔
شائع 12 مئ 2026 08:53am

امریکا میں ہونے والے ایک حالیہ سروے نے دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے، جس کے مطابق امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔

‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا۔

یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر شکوک و شبہات کی ایک لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے ایک ’جعلی‘ واقعہ قرار دینا شروع کر دیا۔

نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے۔

سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔

صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ”ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔

میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق، ”جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں“۔

ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

Read Comments