ایران سے جنگ میں ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ کو چین میں کامیابی کی اُمید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے چین کے ایک اہم دورے پر بیجنگ پہنچ رہے ہیں، لیکن اس بار ان کے اہداف ایک سال پہلے کے مقابلے میں کافی بدل چکے ہیں۔ گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھاری تجارتی ٹیکسوں (ٹیرف) کے ذریعے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری غیر مقبول جنگ اور امریکی عدالتوں کے فیصلوں نے ٹرمپ کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اب چین کے ساتھ چند معاشی سودوں اور ایران کے معاملے پر بیجنگ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر الیجینڈرو ریئس کا کہنا ہے کہ ”اس وقت ٹرمپ کو چین کی ضرورت زیادہ ہے، جبکہ چین کو ان کی ضرورت اتنی نہیں“۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کو اس وقت خارجہ پالیسی میں ایک ایسی جیت کی ضرورت ہے جو دنیا کو دکھا سکے کہ وہ عالمی سیاست کو صرف بگاڑ نہیں رہے بلکہ استحکام بھی چاہتے ہیں۔
اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ ایپل کے سی ای او ٹم کک اور ٹیسلا کے ایلون مسک سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی ہوں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں بوئنگ طیاروں کی خریداری، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں بڑے معاہدوں کا اعلان کیا جائے گا تاکہ ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے سکیں۔
تجارتی معاملات کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور ہانگ کانگ کے قید میڈیا ٹائیکون جیمی لائی کی رہائی پر بھی بات کریں گے۔
جیمی لائی کو حال ہی میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ رہا ہو جائیں اور میں بھی انہیں باہر دیکھنا چاہتا ہوں“۔
تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی اصل توجہ ایران جنگ کے خاتمے پر ہوگی۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین تہران پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو سکے۔
دوسری جانب چین بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔
بیجنگ کی ترجیحات میں تائیوان کا معاملہ سرِ فہرست ہے اور وہ امریکا سے یہ یقین دہانی چاہے گا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرے گا۔
اس کے علاوہ، چین چاہتا ہے کہ امریکا ٹیکنالوجی کی برآمدات، خاص طور پر کمپیوٹر چپس پر لگی پابندیاں ختم کرے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کا ممکنہ نتیجہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک ’سطحی فائر بندی‘ ہو سکتا ہے جو عارضی طور پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کر دے گی، لیکن اس کا زیادہ فائدہ چین کو پہنچنے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں صدر شی کی بہت عزت کرتا ہوں اور امید ہے کہ وہ بھی میری عزت کرتے ہوں گے“۔