ایران جنگ پر امریکی اخراجات 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: پینٹاگون

یہ تخمینہ پہلے کانگریس کو بتائی گئی 25 ارب ڈالر کی رقم سے زیادہ ہے۔
اپ ڈیٹ 12 مئ 2026 07:36pm

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر کے اخراجات ہو چکے ہیں، جو کانگریس کو پہلے بتائے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے سے زیادہ ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کیے گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ایک سینئر اہلکار نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اب تک مجموعی لاگت 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ ماہ دیے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے کے مقابلے میں 4 ارب ڈالر زیادہ ہے۔

پینٹاگون کے قائم مقام مالی امور کے نگران جے ہرسٹ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ اس نئے تخمینے میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، دوبارہ تیاری اور جاری آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ٹیمیں مسلسل ان اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں اور اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق 29 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ حتمی نہیں ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر اخراجات اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کیے گئے۔ بعض ذرائع کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ہی اس جنگ پر بھاری اخراجات سامنے آئے تھے، جن میں پہلے چھ دنوں کے دوران ہی 11.3 ارب ڈالر کے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پینٹاگون جہاں ممکن ہوگا، جنگی اخراجات کی تفصیلات شیئر کرے گا، تاہم یہ معلومات صرف اسی وقت فراہم کی جائیں گی جب وہ ضروری اور متعلقہ ہوں گی۔ کانگریس رکن پیٹ ایگولار نے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تفصیلی مالی رپورٹنگ اسی فورم پر پیش کی جانی چاہیے۔

امریکی سیاسی حلقوں میں ایران جنگ کے اخراجات پر بحث جاری ہے، جہاں ڈیموکریٹس اسے معاشی مسائل اور عوامی اخراجات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ تمام اعداد و شمار شفاف طریقے سے اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں اہم عالمی توانائی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی اور 11 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل براہ راست بات چیت ہوئی جو بغیر نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد 13 اپریل کو امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر پابندیوں کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔

اس دوران مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہا، ایران نے اعتماد کی کمی اور امریکی رویے پر اعتراضات اٹھائے، جب کہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔ تاہم پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

بعدازاں، ایران نے نئی تجاویز پیش کیں، جس میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ شامل تھا۔ ایران نے اس تجویز کو معقول اور وسیع البنیاد قرار دیا، جب کہ امریکا نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پیر کے روز صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ دی جس میں انھوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ بھی کرے گا۔

Read Comments