وانگ ژی اور اسحاق ڈار کے درمیان رابطہ، ایران تنازع پر پاکستانی ثالثی کردار کی تعریف
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتِ حال، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے مؤثر ثالثی کے کردار کو سراہا اور دیرپا سیز فائر کی اہمیت پر زور دیا۔
منگل کے روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں حالیہ علاقائی صورتِ حال اور ایران و امریکا کے درمیان رابطوں سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی، جن کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے پاکستان کے تعمیری ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے اس کی حمایت کا اعادہ کیا۔
گفتگو کے دوران دونوں جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان دیرپا سیز فائر برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا، جب کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے حوالے سے تقریبات، اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور دوطرفہ و کثیرالجہتی تعاون سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
خیال رہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری مگر تعطل کا شکار امن مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جس پر چین نے بھی اطمینان اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اسی دوران توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکا اور چین کی اعلیٰ سطحی ملاقات میں ایران کا معاملہ اہم ایجنڈا ہوگا، تاہم ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل اس حوالے سے کسی بڑے فیصلے کا امکان کم ہے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی میں کمی کو امریکا اپنی فتح نہ سمجھے، کیونکہ صورتِ حال اب بھی حساس اور غیر مستحکم ہے۔