صدر ٹرمپ 9 سال بعد بیجنگ پہنچ گئے، چین کے ساتھ اہم معاہدے متوقع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی آمد پر چینی نائب صدر ہان ژینگ اور اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔
ایئر فورس ون کے بیجنگ پہنچنے پر تقریباً 300 بچے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے صدر ٹرمپ کو خوش آمدید کہا۔ صدر ٹرمپ نے بچوں کی جانب ہاتھ ہلایا اور وہ سرکاری موٹرکیڈ میں روانہ ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک بڑا سرکاری اور غیر سرکاری وفد بھی بیجنگ پہنچا ہے، جس میں امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام، کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات اور ان کے قریبی اہل خانہ شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور نمائندہ خصوصی برائے تجارت جیمیسن گریئر صدر کے ہمراہ ایئر فورس ون میں بیجنگ پہنچے، جب کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ جنوبی کوریا میں چینی حکام سے ابتدائی تجارتی مذاکرات کے بعد بیجنگ پہنچیں گے۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے صاحبزادے ایرک ٹرمپ اور بہو لارا ٹرمپ بھی بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ لارا ٹرمپ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی شریک چیئر رہ چکی ہیں اور اس وقت فاکس نیوز پر ایک پروگرام کی میزبانی کر رہی ہیں۔
ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران 2017 کے چین دورے میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ ان کے ہمراہ تھیں، تاہم اس بار وہ اس دورے میں شریک نہیں ہیں۔
کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی کئی مشہور شخصیات بھی اس دورے کا حصہ ہے، جن میں ’ایپل‘ کے ٹم کک، ’ٹیسلا‘ کے ایلون مسک، ’بوئنگ‘ کے کیلی اورٹبرگ اور ’میٹا‘ کی ڈینا پاول میک کارمک شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بلیک راک، بلیک اسٹون، سٹی گروپ، کوہیرنٹ، جی ای ایرو اسپیس، گولڈمین ساکس، الومینا، ماسٹرکارڈ، مائیکرون، کوالکوم اور ویزا جیسے عالمی اداروں کے ایگزیکٹیوز بھی وفد میں شامل ہیں۔ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ کو بھی الاسکا میں ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دیکھا گیا۔
وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ دورہ 13 مئی سے 15 مئی تک جاری رہے گا۔
جمعرات کی صبح صدر شی جن پنگ ’گریٹ ہال‘ میں ٹرمپ کا باقاعدہ سرکاری استقبال کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات ہوگی۔ صدر ٹرمپ شام کو تاریخی ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ کریں گے اور چینی صدر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعزاز میں خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔
جمعے کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری ون آن ون ملاقات، چائے کی نشست اور ورکنگ لنچ ہوگا۔ اس کے بعد امریکی وفد کے کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور جمعہ کی سہ پہر صدر ٹرمپ واشنگٹن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی چین کا دورہ کیا تھا۔
اس دوران صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجز میں سے ایک تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جب کہ اس تنازع کے معاشی اثرات کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے نے بھی ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔
امریکی اور چینی قیادت کے درمیان اس ملاقات میں ممکنہ طور پر تجارتی معاہدوں کے نئے اعلانات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے نئے بورڈز کے قیام پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
چین روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ تجارتی معاملات پر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین امریکی زرعی اجناس اور ہوائی جہازوں کی خریداری میں اضافہ کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔