ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو کا خفیہ یو اے ای کا دورہ منظرِ عام پر آ گیا
اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کے اس اعتراف نے خطے میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے مارچ میں ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے خفیہ ملاقات کی تھی۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس ملاقات نے اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے قبل امریکی حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں نصب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے ایران کی جانب سے داغے گئے مبینہ میزائل حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے چارمیزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق پیٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا، حملے کے بعد آئل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے بعد دبئی اور شارجہ کے درمیان فلائٹ آپریشن معطل کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی ایران جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا تاکہ جنگی صورتِ حال اور سیکیورٹی تعاون پر رابطہ رکھا جا سکے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز پر کارروائی کے معاملے میں بھی باہمی رابطہ رکھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جب کہ اس سے قبل 2018 میں بھی نیتن یاہو کے خفیہ طور پر یو اے ای جانے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔