کے الیکٹرک شہری کی ہلاکت کی ذمہ دار قرار، 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادائیگی کا حکم

عوامی مقام پر نصب بجلی کے پول میں کرنٹ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت ہے، عدالت
شائع 16 مئ 2026 09:43am

کراچی کی سٹی کورٹ نے بارش کے دوران بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے شہری شیخ سعد احمد کے کیس میں کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ رقم 90 روز کے اندر اہلخانہ کو ادا کی جائے۔

سینیئر سول جج وسطی کی عدالت میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک پر جرمانہ عائد کردیا۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہری شیخ سعد احمد 2019 میں بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے بچانے کی کوشش کررہا تھا کہ خود کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

وکیل کے مطابق علاقہ مکینوں نے پہلے ہی کے الیکٹرک کو کھمبے میں کرنٹ کی شکایت کی تھی، تاہم مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک بجلی کے نظام اور تنصیبات کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ متوفی شیخ سعد اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا اور ملازمت کرکے اپنی تعلیم کے ساتھ گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا تھا۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ متعلقہ پول کے الیکٹرک کی ملکیت نہیں تھا، جبکہ اس پر پرائیویٹ جنریٹر، ٹیلی فون اور کیبل کی تاریں بھی لگی ہوئی تھیں۔ وکیل کے مطابق کرنٹ کا اخراج جنریٹر کی تاروں سے ہوا اور کے الیکٹرک کی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ تھیں۔

کے الیکٹرک کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ متوفی شہری نے خطرناک مقام کے قریب جا کر اپنی جان خطرے میں ڈالی۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی سے کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقام پر نصب بجلی کے پول میں کرنٹ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت ہے، جبکہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قانون انسانی جان بچانے کی کوشش کو نرم نظر سے دیکھتا ہے۔

عدالت نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رقم 90 روز میں متوفی کے اہلخانہ کو ادا کی جائے۔

Read Comments