کیا موت کے بعد کسی کے فون کا لاک کھولا جاسکتا ہے؟

ایپل صارفین کو ’لیگیسی کانٹیکٹ‘ کی سہولت بھی دیتا ہے، جس کے ذریعے وفات کے بعد کسی قابلِ اعتماد شخص کو اکاؤنٹ تک رسائی دی جا سکتی ہے
شائع 17 مئ 2026 02:52pm

ایپل نے کئی سال قبل آئی فون صارفین کے لیے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے چہرے کی شناخت سے فون کو محفوظ طریقے سے لاک اور ان لاک کیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دیگر اسمارٹ فون کمپنیوں نے بھی فیشل ریکگنیشن فیچر اپنایا، جبکہ وقت کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی مزید جدید اور محفوظ ہوتی چلی گئی۔

ایپل کا کہنا ہے کہ چونکہ صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں محفوظ ہوتی ہیں، اس لیے ان ڈیوائسز کی سیکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔

سری لنکن ایئر لائنز کے سابق سی ای او کپیلا چندرسینا کی حال ہی میں وفات کے بعد ان کے آئی فون تک رسائی سے متعلق تحقیقات نے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی شخص کی موت کے بعد اس کے چہرے کے ذریعے فون ان لاک کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ایپل نے تقریباً نو برس قبل آئی فون ایکس کے ساتھ فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے صارف اپنے چہرے کی شناخت سے فون ان لاک کر سکتے ہیں۔ اب یہ ٹیکنالوجی جدید آئی فون ماڈلز تک پہنچ چکی ہے اور اسے انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی ’ٹرو ڈیپتھ‘ کیمرہ سسٹم کے ذریعے چہرے کے ہزاروں غیر مرئی نقاط کا تجزیہ کرتا ہے اور ایک تھری ڈی نقشہ تیار کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا فون کے محفوظ سسٹم میں انکرپٹ ہو کر محفوظ رہتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ فیس آئی ڈی صرف تصاویر پر انحصار نہیں کرتا بلکہ یہ بھی جانچتا ہے کہ صارف کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ فون کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اسی لیے کسی دوسرے شخص کے لیے خفیہ طور پر فون کھولنا آسان نہیں ہوتا۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اس حد تک جدید ہے کہ بعض صورتوں میں زندہ اور مردہ شخص میں فرق بھی کر سکتی ہے۔ اگر صرف ایک ہی چہرہ رجسٹر ہو تو کسی اور کے ذریعے فون ان لاک ہونے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق بعض ڈیجیٹل فارنزک ٹولز کے ذریعے مخصوص حالات میں فون سے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فون کے ماڈل اور سیکیورٹی سسٹم پر منحصر ہوتا ہے۔

2016 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سان برنارڈینو حملے کے ملزم کا آئی فون ایپل کی مدد کے بغیر کھول لیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی Cellebrite نے اس کام میں مدد فراہم کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے فون تک رسائی کے قانونی اور اخلاقی پہلو بھی اہم ہیں اور عدالت کے حکم کے بغیر کمپنیوں کے لیے صارف کا ڈیٹا فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ایپل نے صارفین کے لیے ’لیگیسی کانٹیکٹ‘ نامی سہولت بھی متعارف کر رکھی ہے، جس کے ذریعے کوئی صارف اپنی وفات کے بعد کسی قابلِ اعتماد شخص کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ افراد کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواست دینا ہوتی ہے۔

Read Comments