وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے 90 منٹ طویل ملاقات

ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا: ایرانی میڈیا
شائع 17 مئ 2026 07:23pm

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کو وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، یہ ملاقات تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی جب کہ صدارتی محل میں ہونے والی ملاقات میں ایرانی وزیرداخلہ اسکندر مومنی اور وزیرِخارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔

پاکستانی وزیر داخلہ اور ایرانی صدر کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ہوائی اڈے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے ایران امریکا تنازع کے حل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کی۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی اہم ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات، خطے میں پائیدار امن اور تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ سے امن کا حامی رہا ہے اور تنازع کے حل کے لیے حکومت پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں کی دل سے قدر کرتا ہے۔

دونوں وزرا نے پاکستان اور ایران کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم امور اور دوطرفہ تعاون سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی حالیہ عرصے میں خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی منڈی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔

9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچا تھا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایران کی اعلٰی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی تھیں، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی گئی۔

Read Comments