امریکا کی کسی بھی حماقت کا سخت جواب دیا جائے گا: ترجمان ایرانی مسلح افواج
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکا کی جانب سے بار بار دی جانے والی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی حماقت کا جواب مزید شدید حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں اور بیانات پر ردعمل دیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی ناکامی کے بعد اگر وہ اپنی سبکی مٹانے کے لیے کوئی نیا اقدام اٹھاتا ہے تو اس کا نتیجہ ایران کی جانب سے مزید سخت اور تباہ کن حملوں کی صورت میں نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی صدر کی دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں اور ایران کے خلاف کوئی نئی جارحیت کی جاتی ہے تو امریکا کے مفادات اور اس کی فوج کو غیر متوقع اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے ردعمل کے بعد امریکا اپنی ہی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دلدل میں مزید پھنستا چلا جائے گا، جس کی ذمہ داری امریکی صدر کی “مہم جو پالیسیوں” پر عائد ہوتی ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورت حال کے حوالے سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ اور ممکنہ کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد تہران نے بار بار سخت ردعمل دیا ہے، جس کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیت اور جوابی کارروائی کی تیاری کو واضح کرنا ہے۔
اسی تناظر میں بریگیڈیئر جنرل شکارچی کا تازہ بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں شدید اور تباہ کن جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔