امریکا اور اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری کرلی: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ایران پر دوبارہ مشترکہ حملے شروع کرنے کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی ممکنہ بحالی کے لیے یہ تیاریاں رواں سال اپریل کے آغاز میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم تیاریاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران کا دورہ بھی کیا ہے، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود سفارتی عمل کے ناکام ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں جس کے بعد پینٹاگون نئے حملے کے لیے پر تول رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کی سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس ضرورت پڑنے پر جنگ کو تیز کرنے کا پورا پلان موجود ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ضرورت پڑنے پر پیچھے ہٹنے اور اپنے فوجی اثاثوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ گزشتہ ماہ روک دیا جانے والا آپریشن ایپک فیوری چند ہی دنوں میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور منصوبوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں اور فوجی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے شامل ہیں، جبکہ ایک بڑے خطرے والے منصوبے کے تحت امریکی اسیشل فورسز کو ایران کے اندر زمین دوز تنصیبات میں موجود جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اس وقت سب سے اہم ہدف اصفہان کی جوہری تنصیب ہو سکتی ہے جہاں عالمی ایجنسی کے مطابق ساٹھ فیصد تک افزودہ دو سو کلو گرام یورینیم موجود ہے۔
اس کے علاوہ امریکی انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع اپنی 33 میں سے 30 میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، جس سے عالمی جہاز رانی اور تیل کے ٹینکرز کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
اسرائیل میں بھی حکام کا خیال ہے کہ مذاکرات ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے توانائی کے مراکز اور میزائل سسٹمز پر حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے اور وہاں کی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
خطے میں اس وقت دو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش سمیت 20 جنگی بحری جہاز الرٹ کھڑے ہیں، جو کسی بھی اچانک حملے کا جواب دینے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فوکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے تہران پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بار جب وہ کوئی معاہدہ کرتے ہیں، تو اگلے ہی دن ایسا لگتا ہے جیسے ہماری اس بارے میں کوئی بات چیت ہی نہیں ہوئی تھی۔
انہوں نے ایران کی جانب سے آنے والی تازہ ترین تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کا پہلا جملہ ہی پسند نہیں آیا، اس لیے میں نے اسے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا۔
امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو واضح الفاظ میں الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقل مند شخص معاہدہ کر لے گا، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ پاگل ہوں۔ وہ یا تو کسی معاہدے پر پہنچیں یا پھر تباہ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ میں اب مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کرنے والا۔
اس ممکنہ معاہدے میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرے گا اور امریکا ہی اس زمین دوز مواد کو وہاں سے نکالے گا۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں اس یورینیم کو ایرانی ملبے تلے دبے رہنے دینے کے بجائے خود حاصل کرنے کو ترجیح دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مواد مجھے مل جائے تو مجھے زیادہ اطمینان ہوگا، حالانکہ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ اصل سے زیادہ پبلک ریلیشنز یعنی عوامی تاثر کے لیے ہے۔
دوسری طرف ایران کے پارلیمانی مہم جوئی اور قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملے شروع ہوئے تو ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کو بڑھا کر نوے فیصد تک لے جا سکتا ہے، جو کہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار حد ہے۔