گھر کو ٹھنڈا رکھنے اور ہوا سے پانی پیدا کرنے والا جادوئی پینٹ

ریسرچرز نے سوچا کہ کیا ایسی چھت تیار کی جا سکتی ہے جو سورج کی گرمی کم کرے اور فضا سے پانی بھی جمع کرے۔
شائع 18 مئ 2026 12:52pm

جب دنیا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور پانی کی شدید کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، تو محققین ایسے حل تلاش کر رہے ہیں جو سادہ بھی ہوں اور مؤثر بھی، اور جو ہماری روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔ آسٹریلیا کے محققین نے ان دونوں مسائل کے حل کے لیے ایک نئی نینو انجینیئرڈ پینٹ تیار کی ہے جو ایک ساتھ ان دونوں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سی این این کے مطابق یہ منصوبہ یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کیارا نیٹو اور منگ چیو کے خیال سے شروع ہوا، جنہوں نے سوچا کہ کیا ایسی چھت تیار کی جا سکتی ہے جو سورج کی گرمی کم کرے اور فضا سے پانی بھی جمع کرے۔ بعد میں اس تحقیق سے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ڈیو پوائنٹ انوویشنز وجود میں آئی، جس کا مقصد عمارتوں کے ڈیزائن کو زیادہ ماحول دوست بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہروں میں کنکریٹ اور چھتیں سورج کی حرارت جذب کرکے درجہ حرارت بڑھا دیتی ہیں، جسے ”اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے اس نئے پینٹ میں خاص نینو میٹریلز استعمال کیے گئے ہیں جو ”پیسو ریڈی ایٹو کولنگ“ کے ذریعے سورج کی زیادہ تر توانائی واپس فضا میں منعکس کر دیتے ہیں اور سطح کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔

ابتدائی تجربات میں اس پینٹ نے عام سفید پینٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔ ماہرین کے مطابق عام سفید پینٹ تقریباً 70 سے 80 فیصد سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے، جبکہ اس نئی کوٹنگ نے کچھ تجربات میں 96 فیصد تک سورج کی شعاعیں واپس منعکس کیں۔ اس کے نتیجے میں چھتوں کا درجہ حرارت اردگرد کے ماحول سے کئی ڈگری کم رہا اور بعض حالات میں بجلی سے چلنے والے ائیرکنڈیشنر کے استعمال میں بھی کمی دیکھی گئی۔

اس منصوبے میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال ہو جائے تو شہروں کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف سڈنی اور آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی (رائل میلبورن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے ماہرین بھی شامل رہے ہیں۔

اس پینٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا سے پانی جمع کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جب سطح ٹھنڈی رہتی ہے اور اردگرد کی ہوا گرم اور مرطوب ہو، تو نمی اس سطح پر پانی کی بوندوں کی شکل میں جمع ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ٹھنڈے گلاس کے باہر پانی کے قطرے بنتے ہیں۔

ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ 200 مربع میٹر کی چھت ایک دن میں تقریباً 74 لیٹر پانی جمع کر سکتی ہے، اگر ہوا میں نمی مناسب ہو۔ کمپنی کے مطابق یہ پانی مکمل طور پر گھر کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا، لیکن اضافی ذریعہ بن سکتا ہے۔

کمپنی کے سربراہ کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ مؤثر ہے جہاں نمی زیادہ ہو، جیسے ساحلی علاقے یا گرم و مرطوب خطے مثلاً سنگاپور یا امازون بیسن۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کارکردگی موسم، ہوا اور نمی کے مطابق بدل سکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے مستقبل میں شہروں کے لیے ایک اہم ماحولیاتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس پینٹ کو مارکیٹ میں لانے کے لیے کمپنی نے آسٹریلوی ادارے ہیمز پینٹ کے ساتھ بھی شراکت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر اس کی قیمت اور کارکردگی عام صارفین کے لیے موزوں رہی تو یہ ٹیکنالوجی عام گھروں تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ توانائی کے استعمال اور کاربن اخراج میں کمی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، جبکہ کچھ حد تک پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments