اسرائیلی فورسز کی صمود فلوٹیلا پر فائرنگ: 100 سے زائد رضاکار گرفتار، سعد ایدھی بھی شامل
غزہ کے لیے امدادی مشن پر جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی نے سوشل میڈیا پر ہنگامی پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو سمندر میں روک لیا گیا جبکہ ایک کشتی پر فائرنگ بھی کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 100 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا مشن کے دوران سعد ایدھی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ شاید ہماری آخری اپڈیٹ ہو، انہوں نے بتایا کہ مشن کو راستے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد ایدھی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔
اُدھر فیصل ایدھی نے اس معاملے پر پاکستانی اعلیٰ حکام سے فوری رابطہ کیا ہے تاکہ مشن میں شامل افراد کی حفاظت اور صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں اس وقت پیش آیا جب فلوٹیلا کو روکنے کی کوشش کی گئی، اس دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ بعض اطلاعات میں کشتیوں پر فائرنگ کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
فلوٹیلا منتظمین کا کہنا ہے کہ مشن مکمل طور پر غیر مسلح، پُرامن اور انسانی بنیادوں پر قائم تھا، جس کا واحد مقصد غزہ کے متاثرین تک امدادی سامان پہنچانا تھا۔
یہ امدادی مشن 14 مئی 2026 کو ترکیہ کے علاقے مارماریس سے روانہ ہوا تھا، جس میں سعد ایدھی سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد امدادی کارکنان شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی غزہ میں اسی قسم کے فوٹیلا کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں، جنہیں اسرائیلی فوجیوں نے انھیں گرفتار کر لیا تھا اور فلوٹیلا امداد پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔