ایران کسی دباؤ، دھونس یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا: ایرانی صدر کا ٹرمپ کو جواب

تہران واشنگٹن کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا: مسعود پزشکیان
شائع 18 مئ 2026 06:53pm

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ، دھونس یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا، امریکا نے جنگ مسلط کرکے بھی دیکھ لیا، اسے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق پیر کے روز اپنے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن تین دن میں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اب ایرانی عوام اور حکام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، ایران دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا اور نہ اپنی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتا کرے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا نے جنگ مسلط کرکے بھی دیکھ لیا، اسے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، اب امریکا نے ایرانی عوام اور حکام میں تفریق ڈالنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں لیکن ایرانی عوام متحد ہیں اور رہیں گے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا نے بغیر کسی جواز کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ایرانی کمانڈرز، وزرا، سائنسدانوں اور بے گناہ طالبات کو شہید کیا، انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر ریت میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں اور خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو غزہ میں نسل کشی پر بھی خاموش ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے جواب میں ایرانی افواج نے “آپریشن ٹرو پرومس 4” کے تحت متعدد جوابی کارروائیاں کیں اور بیلسٹک، ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی صدر کے مطابق 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے کیوں کہ امریکی وفد کی جانب سے ”ضرورت سے زیادہ مطالبات“ اور مؤقف میں تبدیلیاں سامنے آئیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتا رہتا ہے، جسے تہران بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اس وقت تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا جب تک امریکا اس کے مطالبات خصوصاً ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط تسلیم نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران معاہدے کے لیے آمادہ نہ ہوا تو اس پر پہلے سے زیادہ سخت حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا معاہدہ چاہتا ہے لیکن ایران ابھی وہاں نہیں پہنچا جہاں امریکا اسے دیکھنا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران بہتر تجویز کے ساتھ سامنے نہ آیا تو اسے ”پہلے سے کہیں زیادہ سخت نتائج“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسعود پزشکیان نے غزہ اور فلسطین کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقتور ممالک اپنے اقدامات کو ”دفاع“ کا نام دیتے ہیں جب کہ امریکی میڈیا بھی ان اقدامات کو جائز قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”وہ نسل کشی کو بھی دفاع کا نام دیتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس طاقت ہے“۔

Read Comments