پاکستان کی سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ڈرون حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں: ترجمان دفتر خارجہ
شائع 18 مئ 2026 11:24pm

حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

پیر کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 17 مئی 2026 کو برادر اسلامی ملک سعودی عرب پر کیے گئے ڈرون حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، ڈرون حملے خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس نازک وقت میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ عراق کی جانب سے 3 ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی عرب پر حملے کی کوشش کی گئی تاہم سعودی فضائی دفاع نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں ڈرون فضا میں ہی تباہ کردیے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حملے کا نشانہ سعودی عرب کی خود مختاری اور سلامتی تھا مگر سعودی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ نقصان سے قبل خطرے کو ناکام بنادیا۔

ترجمان سعودی وزارتِ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب مناسب وقت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مملکت سعودی عرب اپنی علاقائی سلامتی، خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ بھڑکنے کے بعد سے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عراق سے آنے والے میزائلوں یا ڈرونز کے ذریعے سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔

عراقی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی جنگ اور تنازع میں ملوث نہ ہونے کے خواہش مند ہیں اور عراقی سرزمین سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کی اجازت نہ دینے کے مؤقف پر قائم ہیں۔

Read Comments