ایران پر ایک اور بڑی ضرب لگانی پڑ سکتی ہے: صدر ٹرمپ

پیر کے روز ایران پر حملے کا حکم دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 19 مئ 2026 08:22pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ پیر کے روز اس حملے کا فیصلہ کرنے سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر تھے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر چینی صدر سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ایران کو کسی بھی قسم کے ہتھیار اور فوجی امداد نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر نئے ’بال روم‘ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں ایران سے متعلق اہم فیصلہ کیا جا سکتا ہے، جب کہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی قیادت معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے اور مسلسل رابطے کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے انتہائی قریب تھے، تاہم آخری وقت میں اسے مؤخر کر دیا گیا تاہم انہوں نے ممکنہ حملے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ایران کو ایک اور بڑی ضرب لگانی پڑ سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اس معاملے پر ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جلد ہی معلوم ہو جائے گا‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق صورتِ حال آئندہ دو سے تین روز، یعنی جمعہ یا ہفتہ یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز تک مزید واضح ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت بہت کم ہے لیکن امریکا جلد فیصلہ کرے گا۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر تاریخی ’بال روم‘ کا بھی دورہ کیا اور میڈیا کو تعمیراتی کام دکھایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال نہیں ہو رہا بلکہ تمام اخراجات وہ خود برداشت کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس عمارت کو امریکا کے لیے اپنی جانب سے تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ واشنگٹن ڈی سی میں تعمیر ہونے والی اب تک کی خوبصورت ترین عمارتوں میں سے ایک ہوگی‘۔

اسی دوران کیوبا کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ کیوبا کی حکومت کے ساتھ بھی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کیوبا ہمیں پکار رہا ہے، انہیں مدد کی ضرورت ہے اور ہم یہ کریں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا ایک ناکام ریاست ہے لیکن وہ کیوبا کی مدد کر سکتے ہیں چاہے وہاں حکومت تبدیل ہو یا نہ ہو۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کیوبا کی موجودہ کمیونسٹ حکومت کو کرپٹ اور نااہل قرار دے چکی ہے اور وہاں سیاسی تبدیلی کی حمایت کا اشارہ بھی دیتی رہی ہے۔

چند روز قبل معروف امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی امریکی انٹیلی جینس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا، روس اور ایران کی مدد سے ممکنہ امریکی حملوں کے جواب میں اہداف کی نشاندہی اور ڈرون حملوں کی تیاری کر رہا ہے، تاہم کیوبن حکام نے ان الزامات کو مسترد اور اسے کیوبا پر حملوں کا جواز گھڑنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

Read Comments