برٹش ایئرویز نے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا
برٹش ایئرویز نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے باعث مختلف ملکوں کے لیے پروازوں کی بحالی مزید مؤخر کر دی ہے، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
برٹش ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ دبئی، دوحہ اور تل ابیب کے لیے پروازوں کی بحالی اب یکم اگست تک مؤخر کردی گئی ہے۔ ایئرلائن کے مطابق یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ایئرلائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ فلائٹ شیڈول میں مزید تبدیلیاں مسافروں کو بہتر معلومات فراہم کرنے اور آپریشنل تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں حالات معمول پر آنے تک احتیاطی اقدامات جاری رہیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی تو خطے کے مختلف روٹس پر سروسز میں کمی کی جائے گی۔ ریاض اور دوحہ جیسے اہم روٹس پر روزانہ صرف ایک پرواز چلائی جائے گی۔
برٹش ایئرویز نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث تمام فیصلے مسافروں کی حفاظت اور پروازوں کے محفوظ انتظام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں میں ردوبدل یا عارضی معطلی کی ہے، جس کا اثر فضائی سفر اور سیاحت دونوں پر پڑ رہا ہے۔
برٹش ایئرویز اس وقت مشرق وسطیٰ کے چند منتخب روٹس پر محدود پیمانے پر پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان میں بنیادی طور پر لندن ہیتھرو سے دبئی، دوحہ اور ریاض کے لیے سروسز شامل ہیں، تاہم ان کی فریکوئنسی اور شیڈول حالات کے مطابق تبدیل کیا جاتا رہتا ہے۔
ایئرلائن عام طور پر خطے کے لیے اپنی آپریشنل پالیسی میں لچک رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر پروازوں کی تعداد کم یا بڑھا دیتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں بھی برٹش ایئرویز نے بعض روٹس پر سروسز محدود کر رکھی ہیں جب کہ دیگر ممکنہ منزلوں پر پروازوں کی بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی صورتِ حال بہتر ہونے سے مشروط ہے۔