روسی صدر پیوٹن اہم سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم مذاکرات کریں گے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کے روز چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرکاری دورے کے لیے بیجنگ پہنچ گئے۔ یہ دورہ روس اور چین کے درمیان ’معاہدہ برائے ہمسائیگی، دوستی اور تعاون‘ کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایک ہی ماہ میں روس اور امریکا کے صدور کی چین آمد کو اہم سفارتی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔
بیجنگ پہنچنے پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے صدر پیوٹن کا استقبال کیا، جس کے بعد وہ سرکاری مہمان خانے دیاویوتائی روانہ ہوگئے۔
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن کے ہمراہ اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک وفد بھی چین پہنچا ہے۔ مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، امریکا ایران جنگ، توانائی تعاون اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
روسی اور چینی رہنما گیس سپلائی، ہائیڈروکاربن تعاون اور مجوزہ ’پاور آف سائبریا 2‘ گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی گفتگو کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کی باضابطہ ملاقات بدھ کو متوقع ہے، جس کے بعد مشترکہ اعلامیے اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
صدر پیوٹن اپنے دورے کے دوران چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔
واضح رہے کہ روس اور چین نے 2001 میں دوستی اور تعاون کا تاریخی معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد طویل المدتی شراکت داری اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا تھا۔