ایران پر دوبارہ جنگ مسلط ہوئی تو مزید 'سرپرائزِز' دیں گے: عباس عراقچی

ایرانی فوج ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے ’ایف 35‘ طیارے کو مار گرانے والی پہلی فوج ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
شائع 20 مئ 2026 01:02pm

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ حیران کن ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی کانگریس نے بھی ایران پر حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے بھاری نقصانات، بشمول درجنوں جنگی طیاروں کی تباہی کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے جو ایران کی کامیاب دفاعی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کی عسکری کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران پر جنگ کے آغاز کے کئی ماہ بعد اب امریکی کانگریس اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کے نقصان کا اعتراف کر رہی ہے‘۔

انہوں نے خاص طور پر جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے ’ایف 35‘ کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج وہ پہلی قوت ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں جدید ترین اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے ’ایف 35‘ طیارے کو مار گرایا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج نے حالیہ جارحیت سے کافی آپریشنل تجربہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے امریکا اور اتحادیوں کو خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی بھی قسم کی عسکری محاذ آرائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں دشمن کو مزید سرپرائزز ملیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے سخت بیانات دینے کا سلسلہ کر رکھا ہے۔ منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ پیر کے روز اس حملے کا حکم دینے سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر تھے۔

دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

امریکی نائب صدر نے ایران کو ایک بہترین ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ذہین، محنتی اور عظیم تہذیب کے حامل ہیں جب کہ امریکا میں بھی ایرانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایسی کسی ڈیل پر آمادہ نہیں ہوگا، جس سے ایران کو جوہری بم بنانے کی اجازت ملے، ایرانی قیادت کے اندر اختلافات دکھائی دیتے ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ تہران مذاکرات کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو امریکا فوجی آپشن استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہے تاہم ہماری ترجیح اب بھی مذاکرات اور سفارتی حل ہی ہے۔

Read Comments