فلوٹیلا کے کارکنان پر اسرائیلی فوج کے تشدد کی ویڈیو، اٹلی، ترکیہ اور دیگر ممالک کا سخت ردِ عمل
غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ’صمود فلوٹیلا‘ کے کارکنوں کی اسرائیلی حکام کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک سے متعلق ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو فلوٹیلا کارکنان کو جلد از جلد ملک بدر کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جب کہ اٹلی کی وزیراعظم نے واقعے کو انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
صمود فلوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال مزید حساس ہو گئی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ’ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔‘
ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں وہ افراد دکھائے گئے ہیں جنہیں اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی مشن کے دوران حراست میں لیا تھا۔
اس واقعے پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل نے ریاست کو نقصان پہنچایا ہے اور مختلف اداروں کی پیشہ ورانہ کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایتامار بن گویر کی ویڈیو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ فوج (آئی ڈی ایف)، وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کی وسیع کوششیں اس شرمناک کارکردگی کی نذر ہو گئیں۔
گیدعون سار نے اپنے بیان میں بن گویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، تم اسرائیل کا چہرہ نہیں ہو۔‘ ویڈیو ظاہر ہونے اور اس پر ہونے والے سیاسی ردعمل کے بعد اسرائیلی حکومت کے اندر مختلف بیانیوں نے اس معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
ویڈیو منظرِعام پر آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم آفس نے بیان جاری کیا جس میں بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے غزہ فلوٹیلا کے کارکنان کو ملک بدر کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ان کے مطابق اسرائیل کو ایسے فلوٹیلا کو روکنے کا حق حاصل ہے، تاہم ان کے سیاسی اتحادی ایتامار بن گویر کا طرزِ عمل اسرائیل کی اقدار اور ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کو جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔
اس واقعے پر اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
جارجیا میلونی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر کی جانب سے سامنے آنے والی تصاویر ناقابلِ قبول ہیں اور یہ بھی ناقابلِ برداشت ہے کہ ان کارکنوں، جن میں متعدد اطالوی شہری بھی شامل ہیں، کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی کی حکومت فوری طور پر اعلیٰ ترین سطح پر تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ اس واقعے میں شامل اطالوی شہریوں کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اطالوی وزیراعظم کے مطابق اٹلی اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ان فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ کیے گئے سلوک اور اطالوی حکومت کی درخواستوں کو نظر انداز کرنے پر باضابطہ معافی مانگی جائے۔
جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر اٹلی کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ واقعے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جا سکے۔
دوسری جانب ترکیہ نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے کارکنان کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں اس امدادی قافلے کو روکا، جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے نے نیتن یاہو حکومت کی تشدد پر مبنی اور وحشیانہ ذہنیت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے، جب کہ انقرہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ترک شہریوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔
نیدرلینڈز نے بھی غزہ فلوٹیلا کے کارکنان کے ساتھ ناروا سلوک پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈچ وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے کہا ہے کہ زیر حراست افراد کے ساتھ کیا گیا سلوک ناقابلِ قبول ہے اور یہ بنیادی انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں فلوٹیلا کارکنان کو ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا دکھایا گیا تھا، جس پر نیدرلینڈز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی ہم منصب گیدعون سار سے بھی براہ راست بات کی ہے۔
کینیڈا نے بھی غزہ فلوٹیلا کے کارکنان کے ساتھ ناروا سلوک اور ایتامار بن گویر کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ فلوٹیلا میں موجود شہریوں کے ساتھ کیا گیا سلوک انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا پہلے ہی بن گویر پر سخت پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن میں اثاثے منجمد کرنا اور سفری پابندی شامل ہے، جب کہ شہریوں کے حقوق اور انسانی وقار کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق حکومت ان کینیڈین شہریوں کی معاونت کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو اس فلوٹیلا میں شامل تھے، جسے اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں روکا تھا۔
یاد رہے کہ غزہ کے لیے امدادی مشن پر جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل ہیں، جنھوں دو روز قبل سوشل میڈیا پر ہنگامی پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو سمندر میں روک لیا گیا جب کہ ایک کشتی پر فائرنگ بھی کی گئی۔
سعد ایدھی نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ یہ شاید ہماری آخری اپڈیٹ ہو، مشن کو راستے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے جب کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ سعد ایدھی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس کے بعد صورتِ حال مزید تشویش ناک ہوگئی ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے اس معاملے پر پاکستانی اعلیٰ حکام سے فوری رابطہ کیا تاکہ مشن میں شامل افراد کی حفاظت اور صورتِ حال سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔