سپریم جوڈیشل کونسل: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف 5 شکایات ایک ساتھ خارج
سپریم جوڈیشل کونسل کے حالیہ اجلاس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر کی گئی پانچ شکایات کو ایک ساتھ زیرِ غور لایا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق تمام شکایات کو متفقہ طور پر خارج کر دیا گیا ہے، اور اس فیصلے کی تفصیلات بھی عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق پہلی شکایت پشاور ہائی کورٹ کے وکیل صبغت اللہ شاہ کی جانب سے 2016 میں بطور جج پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ کونسل نے 14 مئی کے اجلاس میں اس شکایت کو متفقہ طور پر خارج کر دیا۔
دوسری شکایت کراچی کے شہری امجد حسین درانی نے دائر کی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ بغیر سماعت کے خارج کیا گیا جو کہ مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شکایت کو بھی متفقہ طور پر خارج کر دیا۔
تیسری شکایت کراچی کے رہائشی کامران خان کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کی ایک درخواست کو سماعت کا موقع دیے بغیر خارج کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اس شکایت پر بھی کونسل نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔
چوتھی شکایت وہاڑی کے رہائشی محمد مسعود نے دائر کی تھی، جس میں الزام تھا کہ مارچ 2023 میں دیوانی مقدمے میں قانون کے خلاف فیصلہ دیا گیا، جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ شکایت بھی مسترد کر دی گئی۔
پانچویں اور آخری شکایت لاہور ہائی کورٹ کے وکیل امجد محمود نے دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ 2024 میں ایک وکیل پر سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شکایت کو بھی متفقہ طور پر خارج کر دیا۔
اعلامیے کے مطابق تمام پانچ شکایات پر غور کے بعد کونسل نے متفقہ طور پر انہیں ناقابلِ کارروائی قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔
