امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے مثبت اشارے ملے ہیں: مارکو روبیو کا دعویٰ

میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اگلے چند دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، امریکی وزیر خارجہ
اپ ڈیٹ 21 مئ 2026 11:04pm

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں تاہم انہوں نے اس معاملے پر حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہونے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام (ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں) آج تہران کا دورہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ پاکستانی حکام کے اس دورے سے یہ عمل مزید آگے بڑھے گا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ دیکھتے ہیں ایران سے معاہدہ ہو پاتا ہے یا نہیں، اتحادی متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، ایران معاملے پر ہم نیٹو  اتحادیوں سے بہت ناراض ہیں، اسپین کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے جیسے اقدامات نیٹو اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کا یورپ کے لیے فائدہ تو واضح ہے لیکن امریکا کے لیے اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اسے خطے میں ایسے اڈے حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ مشرق وسطیٰ یا دیگر خطوں میں کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اپنی عسکری طاقت کا اظہار کر سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایک اچھا اور جامع معاہدہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی ترجیح ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے، اگر ہم ایک بہتر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔

ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اگر کوئی اچھا معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکا خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی اچھے نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے تو صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ میں ان آپشنز کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ آپشنز کیا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورت حال میں کچھ اچھے آثار ضرور نظر آ رہے ہیں لیکن وہ فی الحال حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اگلے چند دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس سسٹم کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اگر ایران بحری جہازوں کی آمدورفت پر کنٹرول برقرار رکھنے یا فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات کی صورت میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو عملی طور پر ناممکن سمجھا جائے گا۔ روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی تجارتی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کی جانب سے پابندیاں یا مالی شرائط عالمی توانائی اور تجارتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر اپنی پالیسی اور مؤقف واضح طور پر برقرار رکھے گا۔

Read Comments