کاکروچ پارٹی نے مودی حکومت سے وزیر تعلیم کا استعفا مانگ لیا

یہ 17 لوگ وہ تھے جو مستقبل میں ڈاکٹر بن کر لوگوں کی جان بچاتے مگر خود اپنی جانیں گنوا بیٹھے: ابھیجیت دیپکے
اپ ڈیٹ 22 مئ 2026 11:36am

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے متعلق اسی تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے کا نیا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر سے انہیں بہت سپورٹ مل رہی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈر ابھیجیت دیپکے نے ویڈیو پیغام میں اپنے چاہنے والوں سے کہا کہ آپ سب لوگ اس پارٹی کے لیے جتنا سپورٹ دکھا رہے ہیں، اس سے کہیں نہ کہیں چیزیں بدل رہی ہیں اور بہت سے لوگ اس پر بات کر رہے ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ابھیجیت دیپکے نے ایک اہم مسئلے پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے اہم امتحان نیٹ (Neet) کا پرچہ لیک ہونے پر 17 طالب علموں نے حال ہی میں خودکشی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ 17 لوگ وہ تھے جو مستقبل میں ڈاکٹر بن کر لوگوں کی جان بچاتے مگر خود اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے فاؤنڈر ابھیجیت دیپکے نے بھارت کے وزیرِ تعلیم سے اس واقعے کے بعد استعفا کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سسٹم کی غلطی کے باعث ہمارے ملک کے طلبہ خودکشی کر رہے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے اپنا عہدہ نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے سپورٹرز سے مطالبہ کیا کہ تمام لوگ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھارت کے وزیر تعلیم کا استعفا مانگیں۔

خیال رہے کہ بھارت کے تیس سالہ طالب علم ابھیجیت دیپکے نے انٹرنیٹ پر ملنے والے ایک طعنے کو سیاسی شناخت میں بدلتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک نئی تحریک کا آغاز کیا۔

ابھیجیت حال ہی میں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اورملازمت کے لیے درخواستیں دے رہے تھے کہ اسی دوران بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان نے انٹرنیٹ پر نوجوانوں میں غصے کی لہر دوڑا دی۔

بھارت کے چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو کاکروچ یعنی لال بیگ اور پیرا سائٹ سے تشبیہہ دی تھی جس پر نوجوانوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاکروچ کا لفظ سن کر بہت غصہ آیا اور یہ غصہ اس لیے زیادہ تھا کیونکہ یہ بات ملک کے چیف جسٹس نے کہی تھی جو آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی دیتے ہیں۔

ابھیجیت نے بتایا کہ ان کی جماعت کا مقصد نوجوانوں کی آواز کو سیاسی سطح پر پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے موجود سیاسی نظام سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور انہیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔

دیپکے کا کہنا تھا کہ جماعت نوجوانوں کی رائے اور مسائل کو سن کر ان کے لیے مناسب سیاسی ڈسکورس تیار کرے گی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر پانچ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کی سیٹ یا کوئی سرکاری عہدہ نہ دیا جائے، خواتین کو کابینہ اور اسمبلیوں میں 33 فیصد کے بجائے 50 فیصد ریزرویشن ملے اور بڑے کاروباری خاندانوں کے میڈیا لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

ابھیجیت کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک ایسا بھارت چاہتے ہیں جہاں عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا جیسے تمام ادارے آزاد ہوں۔

بعد ازاں مذکورہ تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اور صرف چند ہی دنوں میں اس کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان جڑگئے۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد تینتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ باقاعدہ رجسٹر ہو چکے ہیں۔

Read Comments