ایران جنگ کے باعث امریکا نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی

ٹرمپ کے متضاد بیانات سے تائیوان میں تشویش بڑھ گئی
شائع 22 مئ 2026 12:01pm

امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی تیاریوں کے باعث تائیوان کو 14 بلین ڈالرز کے ہتھیاروں کی فروخت عارضی طور پر روک دی۔

امریکا کے قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے سینیٹ کی دفاعی ذیلی کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت فی الحال روک دی ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے لیے ضروری اسلحہ محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے پاس “ایپک فیوری” آپریشن کے لیے وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہو، تاہم غیر ملکی فوجی فروخت کا عمل بعد میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں بھی تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اہم موضوع رہی تھی۔

قائم مقام نیوی سیکریٹری کے مطابق اس معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک اب تک کسی مستقل امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے جنوری میں تائیوان کے لیے اس اسلحہ پیکج کی منظوری دی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری ضروری ہے۔

اگر اس معاہدے کو منظوری مل جاتی ہے تو یہ تائیوان کے لیے امریکا کا تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ ہوگا، جو دسمبر میں منظور کیے گئے 11 ارب ڈالر کے پیکج سے بھی بڑا ہوگا۔

تائیوان کے وزیراعظم چو جنگ تائی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت دفاعی خریداری کے عمل کو جاری رکھے گی۔

دوسری جانب بحران سے متعلق تجزیہ کار ولیم یانگ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے تائیوان میں امریکا کی حمایت کے حوالے سے بے چینی اور شکوک و شبہات مزید بڑھیں گے، جبکہ مستقبل میں اضافی دفاعی بجٹ منظور کرانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کی منظوری “دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی”، جبکہ انہوں نے اس اسلحہ معاہدے کو چین کے ساتھ مذاکرات میں “سودے بازی کے کارڈ” کے طور پر استعمال کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا۔

چین خودمختار تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے تائی پے کی مسلسل حمایت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

اگرچہ امریکا سرکاری طور پر تائیوان کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم 1979 کے ’’تائیوان ریلیشنز ایکٹ‘‘ کے تحت واشنگٹن جزیرے کے دفاع میں مدد دینے کا پابند ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس ہفتے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ تائیوان کے صدر ولیم لائی چنگ تائی سے اس اسلحہ معاہدے پر براہ راست بات چیت پر غور کر سکتے ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں کی سفارتی روایت کے برعکس ہوگا اور بیجنگ کے سخت ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔

Read Comments