ٹرمپ انتظامیہ کی 'مِڈٹرم انتخابات' میں مداخلت کی خفیہ کوشش بے نقاب

ٹرمپ انتظامیہ نے الیکٹرانگ ووٹنگ مشینوں کو 'قومی سلامتی کے لیے خطرہ' قرار دینے کا خفیہ منصوبہ بنایا تھا: رائٹرز کا انکشاف
شائع 22 مئ 2026 03:54pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک بار پھر انتخابی نظام سے متعلق تنازعات کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر مشیر نے گزشتہ سال امریکا کی نصف سے زائد ریاستوں میں استعمال ہونے والی ووٹنگ مشینوں پر پابندی لگوانے کی کوشش کی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد امریکی محکمہ تجارت کے ذریعے ان مشینوں کے پرزوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر ان پر پابندی لگانا تھا، تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کرٹ اولسن نے ڈومینین ووٹنگ سسٹمز کی مشینوں کو ہٹانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

کرٹ اولسن واشنگٹن کے ایک ممتاز وکیل اور سابق نیوی افسر ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس قریبی حلقے کا حصہ رہے ہیں جو مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں نتائج کو تبدیل کیا تھا۔

صدر ٹرمپ خود بھی 2020 کے صدارتی انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری مدتِ صدارت میں صدر ٹرمپ نے کرٹ اولسن کو خصوصی اختیارات تفویض کرتے ہوئے 2020 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور ووٹنگ مشینوں کے ساتھ بیرونی قوتوں کی چھیڑ چھاڑ کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

امریکی آئین کے تحت انتخابات کرانے کا اختیار ریاستی اور مقامی حکومتوں کو حاصل ہے تاکہ وفاقی انتظامیہ اختیارات پر قبضہ نہ کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرٹ اولسن اور دیگر حکام اس بات پر غور کر رہے تھے کہ وفاقی حکومت کس طرح امریکی ریاستوں سے انتخابات کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کرٹ اولسن ملک بھر میں ہاتھ سے گنے جانے والے کاغذی بیلٹ متعارف کروانا چاہتے تھے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ایک پرانا مطالبہ رہا ہے۔ تاہم انتخابی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق موجودہ نظام، جس میں ووٹنگ مشینوں کے ساتھ قابلِ تصدیق کاغذی ریکارڈ بھی موجود ہوتا ہے، زیادہ محفوظ اور تمام ریاستوں میں قابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق اس منصوبے میں ٹرمپ کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ کے معاون پال میک نامارا اور وائٹ ہاؤس کے ایک اور اہلکار برائن سکما بھی شامل تھے۔ امریکی سپلائی چین کے قوانین کے تحت محکمہ تجارت کو چین، روس اور وینزویلا جیسے حریف ممالک سے ٹیکنالوجی کے لین دین پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

میک نامارا نے محکمہ تجارت کے حکام سے رابطہ کر کے ڈومینین مشین کی ’چپس‘ اور سافٹ ویئر کو قومی سلامتی خطرہ قرار دینے کے امکانات پر بھی گفتگو کی تھی۔

کرٹ اولسن کی کوششوں کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ڈومینین مشینوں میں مبینہ طور پر غیر ملکی (خاص طور پر وینزویلا کا) ہیکنگ کوڈ موجود ہے۔ جب اولسن کی ٹیم نے پورٹو ریکو میں استعمال ہونے والی مشینوں کو کھول کر ان کا تجزیہ کیا، تو انہیں چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائیشیا میں تیار کردہ عام ’چپس‘ ملیں جنہیں امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بھی قسم کے شواہد نہ ملنے پر محکمہ تجارت نے کوئی بھی ایکشن لینے سے گریز کیا۔

ٹرمپ اور ان کے حامیوں 2020 کے انتخابات کے نتائج پر مسلسل شکوک و شبہات کا اظہار کرے آئے ہیں۔ متعدد تحقیقات اور عدالتی فیصلوں میں ڈومینین مشینوں کے ہیک ہونے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آسکے ہیں، حتیٰ کہ 2023 میں فاکس نیوز کو انتخابی نتائج سے متعلق الزامات پر ڈومینین کو 787 ملین ڈالر کا ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس اور شفاف انتخابات کے لیے سرگرم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) سے قبل ووٹنگ کے عمل کو متاثر اور ممکنہ انتخابی شکست کو دھاندلی کے الزامات کے ذریعے چیلنج کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس رپورٹ کو گمراہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں حقائق کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ تلسی گبارڈ کے دفتر نے بھی رپورٹ میں غلط بیانی کا الزام عائد کیا ہے۔

Read Comments