پنکی منشیات کیس میں اہم پشرفت: کراچی پولیس نے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی
کراچی میں گرفتار ہونے والی کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائمز کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مدد مانگ لی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایک خط لکھا ہے، خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کے ساتھی مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بھاری رقوم وصول اور منتقل کرتے رہے ہیں۔
کراچی پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ملزمان بڑے پیمانے پر نارکوٹکس ٹریفکنگ (منشیات کی اسمگلنگ) اور اس سے جڑے غیر قانونی مالیاتی لین دین میں ملوث ہیں۔
خط میں ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایف آئی اے سے درخواست کی ہے کہ چونکہ اس ہائی پروفائل کیس میں سائبر اور ڈیجیٹل بینکنگ ٹرانزیکشنز شامل ہیں، اس لیے پولیس کو ملزمان کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے تکنیکی مدد فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی خط میں ایف آئی اے کو باقاعدہ انکوائری شروع کرنے اور اس مقصد کے لیے اپنے ماہر افسران تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
خط کے متن کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف اس وقت کراچی کے تھانہ گارڈن اور تھانہ بغدادی میں 3 مقدمات درج ہیں۔ ملزمہ کے خلاف درج ان کیسز میں منشیات ایکٹ، ناجائز اسلحہ اور اقدامِ قتل جیسی سنگین دفعات شامل ہیں، جن پر تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
پنکی منشیات کیس: 2 غیر ملکی باشندے گرفتار
دوسری جاانب لاہور میں بھی انمول عرف پنکی سے جڑے منشیات کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر منشیات کی تقسیم کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں افراد غیر ملکی افریقی باشندے ہیں، جو لاہور میں سرگرم تھے جب کہ دونوں افراد پر پنکی سے منسلک منشیات سپلائی نیٹ ورک کے لیے کام کرنے کا شبہ ہے۔ ملزمان مبینہ طور پر کوکین کی ترسیل اور تقسیم کے مختلف مراحل میں ملوث تھے جب کہ ان کے رابطوں اور مالیاتی لین دین کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب پاکستان میں مبینہ کوکین نیٹ ورک کے ڈھانچے، آپریشنز اور بین الاقوامی روابط کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے نے مزید سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے تحقیقات اور چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔
کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔
